کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ ہونے تک صدقہ ، صدقہ کرنے والے پر سایہ فگن رہے گا
حدیث نمبر: 2431
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ ، أَوْ قَالَ : حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ " ، قَالَ يَزِيدُ : فَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لا يَتَصَدَّقُ مِنْهُ بِشَيْءٍ ، وَلَوْ كَعْكَةً وَلَوْ بَصَلَةً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا حتّیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے ۔ “ یا فرمایا : ” لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔ “ جناب یزید بیان کرتے ہیں کہ اس لئے جناب ابوالخیر ہر روز کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور کرتے تھے اگرچہ ایک کیک یا پیاز ہی ہوتا تو وہی صدقہ کر دیتے ۔
حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ أَوَّلُ أَهْلِ مِصْرَ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَمَا رَأَيْتُهُ دَاخِلا الْمَسْجِدَ قَطُّ ، إِلا وَفِي كُمِّهِ صَدَقَةٌ ، إِمَّا فُلُوسٌ ، وَإِمَّا خُبْزٌ ، وَإِمَّا قَمْحٌ حَتَّى رُبَّمَا رَأَيْتُ الْبَصَلَ يَحْمِلُهُ ، قَالَ : فَأَقُولُ يَا أَبَا الْخَيْرِ ، إِنَّ هَذَا يُنْتِنُ ثِيَابَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : يَا ابْنَ حَبِيبٍ ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِي الْبَيْتِ شَيْئًا أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب یزید بن ابی حبیب مرثد بن عبداللہ مزنی رحمه الله سے بیان کرتے ہیں کہ وہ اہل مصر میں سے سب سے پہلے مسجد میں جاتے ہیں ۔ اور میں نے جب بھی انہیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو ان کی آستین میں صدقہ کرنے کے لئے نقد رقم یا روٹی یا گندم ضرور ہوتی حتّیٰ کہ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ وہ صدقے کے لئے پیاز ہی لے آتے تو میں کہتا کہ اے ابوالخیر ، پیاز تمہارے کپڑے بدبودار کردیتا ہے ۔ تو وہ جواب دیتے کہ اے ابن حبیب ، میرے گھر میں صدقہ دینے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز موجود ہی نہ تھی ( اس لئے یہی لے آیا ہوں ) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا کیا ہوا صدقہ ہو گا ۔ “