کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ صدقہ فطر ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی ادائیگی کی استطاعت رکھتا ہو ۔
حدیث نمبر: Q2399
خِلَافَ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ فَرْضَهَا سَاقِطٌ عَنْ مَنْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ زَكَاةُ الْفِطْرِ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس شخص کے قول کے بر خلاف جو کہتا ہے کہ صدقہ فطر اس شخص سے ساقط ہو جاتا ہے جس پر زکوٰۃ فرض نہ ہو
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الزُّبَيْرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں تمام مسلمان لوگوں پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو صدقہ فطر فرض کیا ہے ۔ ( جَو ) ہر آزاد ، غلام ، مرد اور عورت ادا کریںگے ۔
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا ، أَخْبَرَهُ بِمِثْلِهِ سَوَاءً ، وَقَالَ : مِنْ رَمَضَانَ ، وَقَالَ : ذَكَرٌ وَأُنْثَى .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام مالک رحمه الله سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے ۔ فی رمضان کی بجائے من رمضان کے الفاظ رویت کیئے ہیں ۔ اور ذکر اور انثی کے الفاظ بیان کیئے ہیں ۔