کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جو شخص زکوٰۃ کا مال کھانے سے بچ سکتا ہو تو اس کا بچنا مستحب ہے اگرچہ وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی ہو کیونکہ زکوٰۃ لوگوں کے گناہوں کی میل ہے
حدیث نمبر: 2390
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْعَبَّاسِ : سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسْتَعْمِلُكَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، قَالَ : " مَا كُنْتُ لأَسْتَعْمِلُكَ عَلَى غُسَالَةِ ذُنُوبِ النَّاسِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ وہ آپ کو زکوٰۃ کا تحصیلدار مقرر فرما دیں ۔ ( ان کے گزارش کرنے پر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں لوگوں کے گناہوں کی میل پر عامل مقرر نہیں کروںگا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2390
تخریج حدیث اسناده ضعيف