کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جس مقتول کے قاتل کا علم نہ ہوسکے اُس کی دیت امام زکوٰۃ کے مال سے ادا کرسکتا ہے ۔
حدیث نمبر: Q2384
وَهَذَا عِنْدِي مِنْ جِنْسِ الْحِمَالَةِ لِشَبَهٍ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحُمِّلَ بِهَذِهِ الدِّيَةِ فَأَعْطَاهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور یہ مسئلہ میرے نزدیک حمالہ ( کسی کی دیت یا تاوان وغیرہ اپنے ذمے لے لینا ) کے باب سے ہے کیونکہ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیت اپنے ذمے لے لی ہو پھر زکوٰۃ کے اونٹوں سے اس کی ادائیگی کی ہو
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلا ، فَقَالُوا : لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ : قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطَلَّ دَمُهُ ، فَفَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب بشیر بن بسیار بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے ایک فرد جسے ابن ابی حثمہ کہا جاتا ہے اس نے انہیں خبردی کہ ان کے چند افراد خیبر گئے اور وہاں ( اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ) منتشر ہوگئے ۔ پھر اُنہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ تو اُنہوں نے اُن لوگوں سے کہا جن کے علاقے سے وہ ملا تھا ، تم نے ہمارے ساتھی کا قتل کیا ہے ۔ ( ان کے انکار پر ) اُن لوگوں نے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا کہ ہم خیبر گئے تھے ۔ پھر باقی حدیث ذکر کی اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دینا پسند نہ کیا ، لہٰذا زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ اس کی دیت ادا کر دی ۔