کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: کسی قوم کے سرداروں اور لیڈروں کو اسلام پر پکا کرے کے لئے عطیہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبٍ لَمْ يُخْلَصْ مِنْ تُرَابِهَا ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ : الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْمُرَادِيِّ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاثَةَ الْجَعْفَرِيِّ ، أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ شَكٌّ ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الأَنْصَارِ وَغَيْرِهِمْ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَلا تَأْتَمِنُونِي ، وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، يَأْتِينِي خَبَرُ مَنْ فِي السَّمَاءِ صَبَاحَ مَسَاءَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا جسے ابھی تک مٹی سے الگ بھی نہیں کیا گیا تھا ( کان سے جیسا ملا تھا ویسا ہی تھا ) تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چارافراد میں تقسیم کردیا ( وہ افراد یہ ہیں ) اقرع بن حابس الحنظلی ، عیینہ بن حصن المرادی ، علقمہ بن علاثہ الجعفری اور عامر بن طفیل یا زید الطائی ۔ ( راوی کو ان دو میں شک ہے کہ چوتھا کون تھا ) ۔ یہ بات آپ کے بعض انصاری اور دیگر صحابہ کرام کو ناگوار گزری ۔ آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے حالانکہ میں آسمان والے رب کا بھی امین ہوں ۔ میرے پاس آسمان والے کی وحی صبح وشام آتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2373
تخریج حدیث صحيح بخاري