کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکٰوۃ کے مال سے دینا جائز ہے تاکہ وہ عطیہ کی خواہش سے مسلمان ہو جائیں
حدیث نمبر: 2371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسْأَلْ شَيْئًا عَلَى الإِسْلامِ إِلا أَعْطَاهُ ، قَالَ : فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ، فَأَمَرَ لَهُ بِشِيَاءٍ كَثِيرَةٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شِيَاءِ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : " يَا قَوْمِ ، أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لا يَخْشَى الْفَاقَةَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے لئے جو کچھ مانگا جاتا آپ عطا کر دیتے تھے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے مال مانگا تو آپ نے اسے زکوٰۃ کی بکریوں میں سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بہت ساری بکریاں عطا کیں تو وہ شخص ( بکریاں سمیٹ کر ) اپنی قوم کے پاس پہنچا تو کہنے لگا کہ اے میری قوم کے لوگو ، مسلمان ہو جاؤ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عطا دیتے ہیں کہ انہیں فقر و فاقہ کا ڈر ہی نہیں ہوتا ۔
حدیث نمبر: 2372
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَنَسٌ : أَنَّ رَجُلا أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِشِيَاءٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : " أَسْلِمُوا ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لا يَخْشَى الْفَاقَةَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور کچھ عطا کرنے کا سوال کیا ) تو آپ نے اسے دو پہاڑیوں کے درمیان موجود ( تمام ) بکریاں دینے کا حُکم فرمایا وہ شخص اپنی قوم کے پاس واپس پہنچا تو کہنے لگا ( لوگو ) مسلمان ہوجاؤ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اس شخص کی طرح ( دل کھول کر ) عطا کرتے ہیں جسے فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہوتا ۔