کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: امام کا زکوٰۃ کے تحصل دار کو اجازت دینا کہ وہ مالِ زکوٰۃ سے شادی کرسکتا ہے ، خادم رکھ سکتا ہے اور گھر بھی لے سکتا ہے
حدیث نمبر: 2370
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْمُفْتِي ، حَدَّثَنَا مُعَافَى هُوَ ابْنُ عِمْرَانَ الْمَوْصِلِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا حَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلا ، فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ ، فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ ، فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَعْنِي الْمُعَافَى أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص ہمارا عامل ہو تو وہ ( اس مال ذکوٰۃ سے ) نکا ح کرلے اور اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم لے لے ، اور جس کے پاس گھر نہ ہو تو وہ گھر لے لے ۔ “ جناب معافی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ان چیزوں کے سوا کوئی چیزلی تو وہ خائن ہے یا چور ہے ۔ “