کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: زکوٰۃ کے تحصیل دار کو زکوٰۃ کے مال سے مزدوری دینا درست ہے اگرچہ وہ مالدار ہو
حدیث نمبر: 2368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ هُوَ الْبَارِقِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، مَعَ بَرَاءَتِي مِنْ عُهْدَتِهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ : الْعَامِلِ عَلَيْهَا ، أَوْ غَارِمٍ ، أَوْ مُشْتَرِيهَا ، أَوْ عَامِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ ، أَوْ أُهْدَى لَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار شخص کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حلال نہیں ہے سوائے پانچ قسم کے مالدار اشخاص کے ۔ وہ زکوٰۃ کا تحصیلدار ہو ( تو مزدوری لے سکتا ہے ) یا مقروض ہو یا وہ زکوٰۃ کا مال خرید لے یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو یا جس کا پڑوسی فقیر ہو جسے زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ فقیر ( مال دار ہمسائے کو اس زکوٰۃ کے مال میں سے ) ہدیہ کردے ( تو اس کا لینا جائز ہے ) ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2368
تخریج حدیث صحيح