کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف فرضی زکوٰۃ حرام ہے جو اللہ تعالی نے مستحقین زکوٰۃ کے لئے مالداروں کے اموال میں واجب کی ہے
حدیث نمبر: Q2350
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: Q2350
حدیث نمبر: 2350
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰة کی وصولی کے لئے بھیجا تو اُس نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ چلو ( تا کہ تم بھی مال حاصل کرسکو ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے مخزومی شخص کو فرض زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ “ لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا : ” بیشک ہمارے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے۔ “ یہ آپ کا جواب اس صدقے کے بارے میں تھا جس فرضی صدقے کے بارے میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے( وصول کنندہ کی ) معاونت کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2350
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2351
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھالی اور یہ کھجور ، کھجوروں کی فرض زکوٰۃ کے دسویں یا بیسویں حصّے میں سے تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2351
حدیث نمبر: 2352
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی روایت میں بھی ( فرضی زکوٰۃ کی وضاحت ہے ) جب وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے اور بلاشبہ اُنہوں نے فرضی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں کو یہ جواب دینا کہ یہ صدقہ جس پر تم نے عامل مقرر کیے جانے کا مجھ سے سوال کیا ہے یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2352
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔