کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض زکوٰۃ حرام ہے
حدیث نمبر: Q2347
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: Q2347
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ ، فَنَزَعَهَا مِنْ فِيَّ ، وَقَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ ، لا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے زکوٰة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑ کر مُنہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مُنہ سے وہ کھجور کھینچ لی اور فرمایا : ” بیشک ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2347
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ ، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا ، فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ ؟ قَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ ، لا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " ، وَكَانَ يَقُولُ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لا يَرِيبُكُ ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ " ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے زکوٰة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لیکر مُنہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور لعاب سمیت کھینچ کر زکوٰة کی کھجوروں میں پھینک دی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ، اس بچّے نے جوکجھور لے لی تھی اس پر آپ پرتو کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک ہم آل محمد کے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے۔ جو چیز تمہیں شک و شبہ میں ڈالے اُسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے کیونکہ خیر و برکت اطمینان قلب میں ہے اور جھوٹ شک و شبہ والا ہوتا ہے ۔ پھر مکمّل حدیث بیان
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها / حدیث: 2348