باب: جس شہر والوں سے زکٰوۃ وصول کی جائے گی انہی میں زکوٰۃ تقسیم کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث 2346–2346
باب: نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض زکوٰۃ حرام ہے
حدیث 2347–2348
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچّوں کے اولیاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ انہیں اس مال کو کھانے سے منع کریں جوان کے بالغ مرد خواتین پر حرام ہے
حدیث 2349–2349
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف فرضی زکوٰۃ حرام ہے جو اللہ تعالی نے مستحقین زکوٰۃ کے لئے مالداروں کے اموال میں واجب کی ہے
حدیث 2350–2352
باب: اس بات کے مزید دلائل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” بیشک صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے “ سے آپ کی مراد فرض صدقہ ( زکوٰۃ ) مراد ہے ۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے
حدیث 2353–2355
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر زکوٰۃ حرام ہے وہ بنی عبدالمطلب ہیں ۔
حدیث 2356–2357
باب: زکوٰۃ میں سے فقراء کو مال دینے کا بیان ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے ہے « إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ…. » [ سورۃ التوبة : 60 ] ” بلاشبہ زکوٰۃ فقراء کا حق ہے “
حدیث 2358–2358
باب: اس فقیر کے صدقے کا بیان جسں کے لئے زکوٰۃ کا سوال کرنا جائز ہے
حدیث 2359–2359
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس مسئلے میں تین عقلمند اشخاص کی گواہی سے مراد قسم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے لعان کے مسئلے میں قسم کو گواہی کا نام دیا ہے
حدیث 2360–2360
باب: جس شخص کی زرعی زمین ہو اور آفت آنے سے اس کا غلہ برباد ہو جائے تو اسے زکوٰۃ میں سے بقدر ضرورت و حاجت دینا جائز ہے
حدیث 2361–2361
باب: یتیم بچّوں کو زکوٰۃ کے مال میں سے دینے کا بیان
حدیث 2362–2362
باب: ان مسلمانوں کی صفات کا بیان جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مال سے عطا کرنے کا حُکم دیا ہے
حدیث 2363–2363
باب: زکوٰۃ وصول کرنے والے عامل کو زکوٰۃ کے مال سے اس کی اجرت دی جائے گی ۔
حدیث 2364–2366
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اگر زکوٰۃ کو تحصیل دار اپنے کام کی مزدوری لینے کی نیت اور ارادے کے بغیر محض اللہ کی رضا کے لئے کام کرتا ہے ، پھر اس کے سوال اور حرص کے بغیر امام اسے مزدوری دیتا ہے تو اس کے لئے وہ مزدوری لینا جائز ہے ۔
حدیث 2367–2367
باب: زکوٰۃ کے تحصیل دار کو زکوٰۃ کے مال سے مزدوری دینا درست ہے اگرچہ وہ مالدار ہو
حدیث 2368–2368
باب: امام کو زکوٰۃ کے تحصیل دار کے لئے مزدوری مقرر کرنے کا بیان
حدیث 2369–2369
باب: امام کا زکوٰۃ کے تحصل دار کو اجازت دینا کہ وہ مالِ زکوٰۃ سے شادی کرسکتا ہے ، خادم رکھ سکتا ہے اور گھر بھی لے سکتا ہے
حدیث 2370–2370
باب: غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکٰوۃ کے مال سے دینا جائز ہے تاکہ وہ عطیہ کی خواہش سے مسلمان ہو جائیں
حدیث 2371–2372
باب: کسی قوم کے سرداروں اور لیڈروں کو اسلام پر پکا کرے کے لئے عطیہ دینے کا بیان
حدیث 2373–2373
باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ مقروض شخص کو زکوٰۃ کے مال سے عطا کرنے کا بیان ، اگرچہ وہ غنی ہو
حدیث 2374–2374
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس مقروض زکوٰۃ کے مال سے دینا جائز ہے
حدیث 2375–2375
باب: حج کا ارادہ کرنے والے ضرورت مند شخص کو زکوٰۃ کے ” فی سبیل اللہ “ والے حصّے سے دینا درست ہے کیونکہ حج بھی ” فی سبیل اللہ “ میں شامل ہے
حدیث 2376–2376
باب: امام حاجی کو سواری کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے اونٹ عطا کرسکتا ہے
حدیث 2377–2377
باب: جب ظہار کرنے والے شخص کے پاس کفّارے کے لئے مال موجود نہ ہو تو امام اسے کفّارہ ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ کے مال سے دے سکتا ہے
حدیث 2378–2378
باب: امام کا تحصیلدار کو حُکم دینا کہ زکوٰۃ جہاں سے وصول کی جائے وہیں ( غرباء وغیرہ میں ) تقسیم کردی جائے ۔ بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو کیونکہ اشعث بن سواد کے متعلق میرا دل غیر مطمئن ہے اور اگر یہ روایت ثابت نہ ہوتو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اسی مسئلہ کے بارے میں ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی زکوٰۃ ان کے مالداروں سے وصول کرکے انہی کے فقراء میں تقسیم کرنے کا حُکم کا دیا تھا
حدیث 2379–2379
باب: گاوًں والوں کی زکوۃ امام کے پاس پہنچانے کا بیان تاکہ امام ہی اسے مستحقین میں تقسیم کردے ۔
حدیث 2380–2381
باب: شہروں سے زکوٰۃ جمع کر کے امام کے پاس لانے کا بیان تاکہ امام بذات خود اسے مستحقین میں تقسیم کرے
حدیث 2382–2382
باب: امیر و گورنر کو زکوٰۃ ادا کرنے کی بجائے آدمی بذاتِ خود بھی مستحقین میں تقسیم کرسکتا ہے ۔
حدیث 2383–2383
باب: جس مقتول کے قاتل کا علم نہ ہوسکے اُس کی دیت امام زکوٰۃ کے مال سے ادا کرسکتا ہے ۔
حدیث 2384–2384
باب: آدمی کا اپنے مستحق قرابت داروں کا اپنی زکوٰۃ دینا مستحب و افضل ہے کیونکہ اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہوگی
حدیث 2385–2385
باب: عداوت و بغض رکھنے والے رشتہ دار کو صدقہ دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث 2386–2386
باب: صحت مند اور روزی کمانے کے قابل شخص کو زکٰوۃ دینا حرام ہے
حدیث 2387–2387
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار اور تندرست آدمی کے لئے جس صدقے کو حرام قرار دیا ہے وہ فرض زکوٰۃ ہے ۔ اس سے مراد نفلی صدقہ و خیرات نہیں ہے ۔
حدیث 2388–2388
باب: جو شخص اپنے فقر و فاقہ کا اظہار کرے جبکہ امام کو اس کے مالدار ہونے کا علم نہ ہو تو امام اس کی حالت کے متعلق سوال کئے بغیر اسے زکوٰۃ سے مال دے سکتا ہے
حدیث 2389–2389
باب: جو شخص زکوٰۃ کا مال کھانے سے بچ سکتا ہو تو اس کا بچنا مستحب ہے اگرچہ وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی ہو کیونکہ زکوٰۃ لوگوں کے گناہوں کی میل ہے
حدیث 2390–2390
باب: جس شخص کے پاس صبح یا شام کا کھانا موجود ہو جس سے وہ شخص ایک دن اور ایک رات سیر ہوکر کھا سکے تو اس کے لئے زکوٰۃ کا مال مانگنا درست نہیں ، اگرچہ بغیر مانگے زکوٰۃ میں سے مل جائے تو اس کے لئے لینا جائز ہے
حدیث 2391–2391
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔