کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه (72) بَابُ الْأَمْرِ بِقَسْمِ الصَّدَقَةِ فِي أَهْلِ الْبَلْدَةِ الَّتِي تُؤْخَذُ مِنْهُمُ الصَّدَقَةُ باب: جس شہر والوں سے زکٰوۃ وصول کی جائے گی انہی میں زکوٰۃ تقسیم کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 2346–2346 (73) بَابُ ذِكْرِ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ الْمَفْرُوضَةِ عَلَى النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض زکوٰۃ حرام ہے حدیث 2347–2348 (74) بَابُ ذِكْرِالْبَيَانِ أَنّ عَلٰی أَوْلِيَاءِ الْأَطفَالِ مِنْ اٰلِ النَّبِیِّ صلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْعُھُمْ مِنْ أَكْلِ مَا حُرِّمَ عَلَی اَلْبَالِغِیْنَ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچّوں کے اولیاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ انہیں اس مال کو کھانے سے منع کریں جوان کے بالغ مرد خواتین پر حرام ہے حدیث 2349–2349 (75) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الصَّدَقَةَ الْمُحَرَّمَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ الَّتِي أَوْجَبَهَا اللَّهُ فِي أَمْوَالِ الْأَغْنِيَاءِ لِأَهْلِ سُهْمَانِ الصَّدَقَةِ، دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف فرضی زکوٰۃ حرام ہے جو اللہ تعالی نے مستحقین زکوٰۃ کے لئے مالداروں کے اموال میں واجب کی ہے حدیث 2350–2352 (76) بَابُ ذِكْرِ دَّلَائِلِ أُخْرَى عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ "- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ باب: اس بات کے مزید دلائل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” بیشک صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے “ سے آپ کی مراد فرض صدقہ ( زکوٰۃ ) مراد ہے ۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے حدیث 2353–2355 (77) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ هُمْ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ، لَا كَمَا قَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ آلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ، آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر زکوٰۃ حرام ہے وہ بنی عبدالمطلب ہیں ۔ حدیث 2356–2357 (78) بَابُ إِعْطَاءِ الْفُقَرَاءِ مِنَ الصَّدَقَةِ اتْبَاعًا لِأَمْرِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ: [إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ]. [التَّوْبَةِ: 60] باب: زکوٰۃ میں سے فقراء کو مال دینے کا بیان ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے ہے « إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ…. » [ سورۃ التوبة : 60 ] ” بلاشبہ زکوٰۃ فقراء کا حق ہے “ حدیث 2358–2358 (79) بَابُ صَدَقَةِ الْفَقِيرِ الَّذِي يَجُوزُ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فِي الصَّدَقَةِ، باب: اس فقیر کے صدقے کا بیان جسں کے لئے زکوٰۃ کا سوال کرنا جائز ہے حدیث 2359–2359 (80) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ شَهَادَةَ ذَوِي الْحِجَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ هِيَ الْيَمِينُ، إِذِ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ سَمَّى الْيَمِينَ فِي اللِّعَانِ شَهَادَةً باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس مسئلے میں تین عقلمند اشخاص کی گواہی سے مراد قسم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے لعان کے مسئلے میں قسم کو گواہی کا نام دیا ہے حدیث 2360–2360 (81) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِعْطَاءِ مَنْ لَهُ ضَيْعَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، إِذَا أَصَابَتْ غَلَّتَهُ جَائِحَةٌ أَذْهَبَتْ غَلَّتَهُ قَدْرَ مَا يَسُدُّ فَاقَتَهُ باب: جس شخص کی زرعی زمین ہو اور آفت آنے سے اس کا غلہ برباد ہو جائے تو اسے زکوٰۃ میں سے بقدر ضرورت و حاجت دینا جائز ہے حدیث 2361–2361 (82) بَابُ إِعْطَاءِ الْيَتَامَى مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا كَانُوا فُقَرَاءَ- إِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ، فَإِنَّ فِي النَّفْسِ مِنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ - وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ هَذَا الْخَبَرُ باب: یتیم بچّوں کو زکوٰۃ کے مال میں سے دینے کا بیان حدیث 2362–2362 (83) بَابُ ذِكْرِ صِفَةِ الْمُسْكِينَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِإِعْطَائِهِمْ مِنَ الصَّدَقَةِ باب: ان مسلمانوں کی صفات کا بیان جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مال سے عطا کرنے کا حُکم دیا ہے حدیث 2363–2363 (84) بَابُ إِعْطَاءِ الْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْهَا رِزْقًا لِعَمَلِهِ، باب: زکوٰۃ وصول کرنے والے عامل کو زکوٰۃ کے مال سے اس کی اجرت دی جائے گی ۔ حدیث 2364–2366 (85) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْعَامِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ إِنْ عَمِلَ عَلَيْهَا مُتَطَوِّعًا بِالْعَمَلِ بِغَيْرِ إِرَادَةٍ وَنِيَّةٍ لِأَخْذِ عُمَالَةٍ عَلَى عَمَلِهِ فَأَعْطَاهُ الْإِمَامُ لِعُمَالَتِهِ رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةِ وَلَا إِشْرَافٍ، فَجَائِزٌ لَهُ أَخْذُهُ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اگر زکوٰۃ کو تحصیل دار اپنے کام کی مزدوری لینے کی نیت اور ارادے کے بغیر محض اللہ کی رضا کے لئے کام کرتا ہے ، پھر اس کے سوال اور حرص کے بغیر امام اسے مزدوری دیتا ہے تو اس کے لئے وہ مزدوری لینا جائز ہے ۔ حدیث 2367–2367 (86) بَابُ ذِكْرِ إِعْطَاءِ الْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ عُمَالَةً مِنَ الصَّدَقَةِ وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا باب: زکوٰۃ کے تحصیل دار کو زکوٰۃ کے مال سے مزدوری دینا درست ہے اگرچہ وہ مالدار ہو حدیث 2368–2368 (87) بَابُ فَرْضِ الْإِمَامِ لِلْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ رِزْقًا مَعْلُومًا باب: امام کو زکوٰۃ کے تحصیل دار کے لئے مزدوری مقرر کرنے کا بیان حدیث 2369–2369 (88) بَابُ إِذْنِ الْإِمَامِ لِلْعَامِلِ بِالتَّزْوِيجِ، وَاتِّخَاذِ الْخَادِمِ وَالْمَسْكَنِ مِنَ الصَّدَقَةِ باب: امام کا زکوٰۃ کے تحصل دار کو اجازت دینا کہ وہ مالِ زکوٰۃ سے شادی کرسکتا ہے ، خادم رکھ سکتا ہے اور گھر بھی لے سکتا ہے حدیث 2370–2370 (89) بَابُ ذِكْرِ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ لِيَسْلَمُوا لِلْعَطِيَةِ باب: غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکٰوۃ کے مال سے دینا جائز ہے تاکہ وہ عطیہ کی خواہش سے مسلمان ہو جائیں حدیث 2371–2372 (90) بَابُ إِعْطَاءِ رُؤَسَاءِ النَّاسِ وَقَادَتِهِمْ عَلَى الْإِسْلَامِ تَأَلُّفًا بِالْعَطِيَّةِ باب: کسی قوم کے سرداروں اور لیڈروں کو اسلام پر پکا کرے کے لئے عطیہ دینے کا بیان حدیث 2373–2373 (91) بَابُ إِعْطَاءِ الْغَارِمِينَ مِنَ الصَّدَقَةِ وَإِنْ كَانُوا أَغْنِيَاءَ بِلَفْظِ خَبَرٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ مقروض شخص کو زکوٰۃ کے مال سے عطا کرنے کا بیان ، اگرچہ وہ غنی ہو حدیث 2374–2374 (92) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْغَارِمَ الَّذِي يَجُوزُ إِعْطَاؤُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس مقروض زکوٰۃ کے مال سے دینا جائز ہے حدیث 2375–2375 (93) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِعْطَاءِ مَنْ يَحُجُّ مِنْ سَهْمِ سَبِيلِ اللَّهِ، إِذِ الْحَجُّ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ باب: حج کا ارادہ کرنے والے ضرورت مند شخص کو زکوٰۃ کے ” فی سبیل اللہ “ والے حصّے سے دینا درست ہے کیونکہ حج بھی ” فی سبیل اللہ “ میں شامل ہے حدیث 2376–2376 (94) بَابُ إِعْطَاءِ الْإِمَامِ الْحَاجَّ إِبِلَ الصَّدَقَةِ لِيَحُجُّوا عَلَيْهَا باب: امام حاجی کو سواری کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے اونٹ عطا کرسکتا ہے حدیث 2377–2377 (95) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِعْطَاءِ الْإِمَامِ الْمُظَاهِرَ مِنَ الصَّدَقَةِ مَا يُكَفِّرُ بِهِ عَنْ ظِهَارَهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ وَاجِدًا لِلْكَفَّارَةِ باب: جب ظہار کرنے والے شخص کے پاس کفّارے کے لئے مال موجود نہ ہو تو امام اسے کفّارہ ادا کرنے کے لئے زکوٰۃ کے مال سے دے سکتا ہے حدیث 2378–2378 (96) بَابُ أَمْرِ الْإِمَامِ الْمُصَدِّقَ بِقَسْمِ الصَّدَقَةِ حَيْثُ يَقْبِضُ، إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ، فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ هَذَا الْخَبَرُ، فَخَبَرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا بِأَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنْ أَغْنِيَاءِ أَهْلِ الْيَمَنِ وَقَسْمِهَا فِي فُقَرَائِهِمْ- كَافٍ مِنْ هَذَا الْخَبَرِ باب: امام کا تحصیلدار کو حُکم دینا کہ زکوٰۃ جہاں سے وصول کی جائے وہیں ( غرباء وغیرہ میں ) تقسیم کردی جائے ۔ بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو کیونکہ اشعث بن سواد کے متعلق میرا دل غیر مطمئن ہے اور اگر یہ روایت ثابت نہ ہوتو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اسی مسئلہ کے بارے میں ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی زکوٰۃ ان کے مالداروں سے وصول کرکے انہی کے فقراء میں تقسیم کرنے کا حُکم کا دیا تھا حدیث 2379–2379 (97) بَابُ حَمْلِ صَدَقَاتِ أَهْلِ الْبَوَادِي إِلَى الْإِمَامِ؛ لِيَكُونَ هُوَ الْمُفَرِّقُ لَهَا باب: گاوًں والوں کی زکوۃ امام کے پاس پہنچانے کا بیان تاکہ امام ہی اسے مستحقین میں تقسیم کردے ۔ حدیث 2380–2381 (98) بَابُ حَمْلِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْمُدُنِ إِلَى الْإِمَامِ لِيَتَوَلَّى تَفْرِقَتَهَا عَلَى أَهْلِ الصَّدَقَةِ باب: شہروں سے زکوٰۃ جمع کر کے امام کے پاس لانے کا بیان تاکہ امام بذات خود اسے مستحقین میں تقسیم کرے حدیث 2382–2382 (99) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قَسْمِ الْمَرْءِ صَدَقَتَهُ مِنْ غَيْرِ دَفْعِهَا إِلَى الْوَالِي، باب: امیر و گورنر کو زکوٰۃ ادا کرنے کی بجائے آدمی بذاتِ خود بھی مستحقین میں تقسیم کرسکتا ہے ۔ حدیث 2383–2383 (100) بَابُ إِعْطَاءِ الْإِمَامِ دِيَةَ مَنْ لَا يُعْرَفُ قَاتِلُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ، باب: جس مقتول کے قاتل کا علم نہ ہوسکے اُس کی دیت امام زکوٰۃ کے مال سے ادا کرسکتا ہے ۔ حدیث 2384–2384 (101) بَابُ اسْتِحْبَابِ إِيثَارِ الْمَرْءِ بِصَدَقَتِهِ قَرَابَتَهُ دُونَ الْأَبَاعِدِ، لِانْتِظَامِ الصَّدَقَةِ، وَصِلَةٍ مَعًا بِتِلْكَ الْعَطِيَّةِ باب: آدمی کا اپنے مستحق قرابت داروں کا اپنی زکوٰۃ دینا مستحب و افضل ہے کیونکہ اس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ صلہ رحمی بھی ہوگی حدیث 2385–2385 (102) بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ باب: عداوت و بغض رکھنے والے رشتہ دار کو صدقہ دینے کی فضیلت کا بیان حدیث 2386–2386 (103) بَابُ ذِكْرِ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ عَلَى الْأَصِحَّاءِ الْأَقْوِيَاءِ عَلَى الْكَسْبِ، باب: صحت مند اور روزی کمانے کے قابل شخص کو زکٰوۃ دینا حرام ہے حدیث 2387–2387 (104) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِهَذِهِ الصَّدَقَةِ- الَّتِي أَعْلَمَ أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلْغَنِيِّ وَلَا لِلسَّوِيِّ- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالدار اور تندرست آدمی کے لئے جس صدقے کو حرام قرار دیا ہے وہ فرض زکوٰۃ ہے ۔ اس سے مراد نفلی صدقہ و خیرات نہیں ہے ۔ حدیث 2388–2388 (105) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِعْطَاءِ الْإِمَامِ مِنَ الصَّدَقَةِ مَنْ يَذْكُرُ حَاجَةً وَفَاقَةً لَا يَعْلَمُ الْإِمَامُ مِنْهُ خِلَافَهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ عَنْ حَالِهِ، أَهُوَ فَقِيرٌ مُحْتَاجٌ أُمْ لَا؟ باب: جو شخص اپنے فقر و فاقہ کا اظہار کرے جبکہ امام کو اس کے مالدار ہونے کا علم نہ ہو تو امام اس کی حالت کے متعلق سوال کئے بغیر اسے زکوٰۃ سے مال دے سکتا ہے حدیث 2389–2389 (106) بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاسْتِعْفَافِ عَنْ أَكْلِ الصَّدَقَةِ لِمَنْ يَجِدُ عَنْهَا غِنًى. يعْنِي مِنَ الْمَعَانِي، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِهَا إِذْ هِيَ غُسَالَةُ ذُنُوبِ النَّاسِ باب: جو شخص زکوٰۃ کا مال کھانے سے بچ سکتا ہو تو اس کا بچنا مستحب ہے اگرچہ وہ زکوٰۃ کا مستحق بھی ہو کیونکہ زکوٰۃ لوگوں کے گناہوں کی میل ہے حدیث 2390–2390 (107) بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا كَانَ سَائِلُهَا وَاجِدًا غَدَاءً أَوْ عَشَاءً يُشْبِعُهُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ كَانَ أَخْذُهُ لِلصَّدَقَةِ- مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ- جَائِزًا باب: جس شخص کے پاس صبح یا شام کا کھانا موجود ہو جس سے وہ شخص ایک دن اور ایک رات سیر ہوکر کھا سکے تو اس کے لئے زکوٰۃ کا مال مانگنا درست نہیں ، اگرچہ بغیر مانگے زکوٰۃ میں سے مل جائے تو اس کے لئے لینا جائز ہے حدیث 2391–2391 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯