باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ محصول کی وصولی کی مذمت کا بیان
حدیث 2333–2333
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکورہ وعید کا تعلق اس تحصِل دار کے ساتھ ہے جو وصول میں عدل و انصاف کی بجاںے ظلم و زیادتی کرتا ہے
حدیث 2334–2334
باب: زکوٰۃ کی وصولی ظلم کرنے پر وعید اور ظلم کرنے والے کو زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دینے کا بیان
حدیث 2335–2336
باب: زکوٰۃ کے مال میں تحصیل دار کے خیانت کرنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث 2337–2337
باب: اس بات کا بیان کہ تحصیلدار جو کثیر یا قلیل مال امام سے چھپائے گا وہ خیانت شمار ہوگا
حدیث 2338–2338
باب: زکوٰۃ کے وصول کنندہ کا لوگوں سے اپنے لئے ہدیہ لینے کی وعید کا بیان
حدیث 2339–2339
باب: زکوٰۃ کا تحصیل دار جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس مال کو کیسے لیکر حاضر ہوگا ، اس کی کیفیت کا بیان اور امام کا تحصیلدار کا محاسبہ کرنے کا حُکم دینے کا بیان جبکہ وہ مال لیکر واپس آئے
حدیث 2340–2340
باب: زکوٰۃ کے وصول کنندہ کو راضی کرنے کے حُکم کا بیان ، اسے مالداروں کے پاس سے راضی ہوکر لوٹنا چاہیے
حدیث 2341–2341
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں سے کوئی شخص زکوٰۃ کی وصولی کا عامل بننے کی آرزو کرے تو اسے روک دیا جائے گا کیونکہ ان کے لئے فرض زکوٰۃ حلال نہیں ہے ۔
حدیث 2342–2343
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اگر زکوٰۃ کی وصولی کا عامل بننا چاہیں تو انہیں روک دیا جائے گا کیونکہ آزاد کردہ غلام اسی قوم کے فرد شمار ہوتے ہیں ۔ ان پر زکوٰۃ اسی طرح حرام ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام ہے ۔ البتہ نفلی صدقہ حلال ہے
حدیث 2344–2344
باب: جس شخص سے زکوٰۃ وصول کی جائے اس کے حق میں امام کو دعا کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جو حُکم دیا ہے اس کی پیروی کرتے ہوئے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : « خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ » [ سورة التوبة : ۱۰۳ ] ” ( اے نبی ) ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیئے ( تاکہ ) اس کے ذریعے سے انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں اور ان کے لئے دعا کیجیئے ، بیشک آپ کی دعا ان کی لئے سکون کا باعث ہے ۔ “
حدیث 2345–2345
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔