کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس وقت کا بیان جب امام پھلوں کا تخمینہ لگانے کے لئے ماہر آدمی کو بھیجے گا
حدیث نمبر: Q2315
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار / حدیث: Q2315
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ ، أَمْ يَدْفَعُهُ الْيَهُودُ بِذَلِكَ ، وَإِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر ( کے باغات ) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کے پکتے ہی ( خیبر ) بھیجتے اور وہ کھجوریں کھائی جانے سے پہلے ان کی مقدار کا تخمینہ لگا لیتے ۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ اس تخمینے کے مطابق ( اپنا حصّہ ) وصول کرلیں یا یہودی ( مسلمانوں کو ) اس اندازے کے مطابق ( ان کا حصّہ) ادا کردیں اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخمینہ لگانے کا حُکم اس لئے دیا تھا تاکہ کھجوریں کھانے اور انہیں تقسیم کرنے سے پہلے ان کی زکوٰۃ کا اندازہ معلوم ہوسکے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار / حدیث: 2315
تخریج حدیث اسناده ضعيف