کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آدمی کا خون اور مال نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر شہادتوں کے اقرار کرلینے کے بعد ( دوسروں کے لئے ) حرام ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: Q2248
إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَهُمْ إِخْوَانَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ التَّوْبَةِ مِنَ الشِّرْكِ وَبَعْدَ إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ إِذَا وَجَبَتَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ اللہ تعالی نے مشرکین کو شرک سے توبہ کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے بعد ، جبکہ یہ دونوں واجب ہوچکی ہوں ، مسلمانوں کا بھائی بنایا ہے
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے حُکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتّیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں ، پھر اُن کا خون اور اُن کے مال مجھ پر حرام ہوںگے اور اُن کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔ “