کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: قیام رمضان میں عورتوں کا امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: Q2209
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2209
حدیث نمبر: 2209
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایسے لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کام کو درست قراردیا تھا اور فرمایا تھا کہ ” انہوں نے درست یا بہت اچھا کام کیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2209
تخریج حدیث انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 2210
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتّیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو اُس کے لئے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے ۔ “ اور ایک روایت میں آیا ہے ، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری رات ہمیں قیام کرایا ، اپنے اہل وعیال اور ازواج مطہرات کو بھی جمع کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا ڈر پیدا ہوا ۔ اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے صحابہ کرام قاری اور حافظ تھے ۔ وہ سب کے سب ان پڑھ نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2210
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2211
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ” جس شخص نے امام کے ساتھ قیام کیا حتّیٰ کہ امام نماز سے فارغ ہوگیا تو اُس کے لئے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے ۔ “ میں اس بات کی دلیل ہے کہ قاری اور ان پڑھ شخص جب امام کے ساتھ اس کی نماز سے فارغ ہونے تک قیام کرتا ہے تو اُس کے لئے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے اور ساری رات کے قیام کا ثواب کا لکھا جانا بعض رات کے قیام کے ثواب لکھے جانے سے افضل و بہتر ہے ۔ جبکہ اُس نے قیام کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کے دن میں روزہ رکھا ، پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا کیں ، زکوٰۃ ادا کی ، اللہ کی توحید کی گواہی دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2211
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔