کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: رمضان المبارک میں قاری قرآن کا ان پڑھ لوگوں کو نفل نماز کی امامت کرانا ۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ رمضان المبارک میں نفل نماز کی جماعت کرانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے ، بدعت نہیں ہے ، جیسا کہ رافضیوں کا خیال ہے
حدیث نمبر: Q2208
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2208
حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَا هَؤُلاءِ ؟ " فَقِيلَ : هَؤُلاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَابُوا " ، أَوْ " نِعْمَ مَا صَنَعُوا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو اچانک کچھ لوگ رمضان المبارک میں مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” یہ لوگ کون ہیں ؟ “ آپ سے عرض کیا گیا کہ ان لوگوں کو قرآن مجید یاد نہیں ہے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم نمازپڑھا رہے ہیں اور وہ ان کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے درست کام کیا ہے یا انہوں نے بہت اچھا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2208
تخریج حدیث اسناده ضعيف