فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمضان المبارک میں قیام کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے ، رافضی شیعہ کے دعوے کے بر خلاف جو کہتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قیام کرنا بدعت ہے سنّت نہیں ہے

حدیث 2201–2201

باب: رمضان المبارک کے قیام کا حُکم رغبت و شوق دلانے کے لئے ہے ، تاکیدی اور وجوبی نہیں ہے

حدیث 2202–2202

باب: رمضان المبارک کا قیام ایمان اور ثواب کی نیت سے کرنے پر گزشتہ گناہوں کی مغفرت کا بیان

حدیث 2203–2203

باب: رمضان المبارک میں باجماعت نفل نماز ادا کرنے کا بیان ، اُن لوگوں کے قول کے برخلاف جن کا خیال ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رمضان المبارک میں باجماعت نفل نماز ادا کرنے کا حُکم دیا

حدیث 2204–2204

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین راتوں میں خصوصاً قیام ، ان میں شب قدر کے ہونے کی وجہ سے کرایا تھا

حدیث 2205–2205

باب: رمضان المبارک کے قیام میں مقتدی کا امام کے ساتھ اُس کے فارغ ہونے تک مکمّل قیام اللیل کرنے کا بیان

حدیث 2206–2206

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے رمضان المبارک کی راتوں میں اس لئے قیام نہیں کی تھا کہ آپ ڈرگئے تھے کہ کہیں آپ کی اُمّت پر قیام اللیل فرض نہ کردیا جائے پھر وہ اس سے عاجز آجائیں گے

حدیث 2207–2207

باب: رمضان المبارک میں قاری قرآن کا ان پڑھ لوگوں کو نفل نماز کی امامت کرانا ۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ رمضان المبارک میں نفل نماز کی جماعت کرانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے ، بدعت نہیں ہے ، جیسا کہ رافضیوں کا خیال ہے

حدیث 2208–2208

باب: قیام رمضان میں عورتوں کا امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا مستحب ہے

حدیث 2209–2211

باب: قیام رمضان کی فضیلت اور قیام کرنے والے کو صدیق اور شہید کا نام ملنے کے استحقاق کا بیان

حدیث 2212–2212

باب: رمضان المبارک کی راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی تعداد رکعات کا بیان

حدیث 2213–2213

باب: رمضان المبارک کے آخری عشرے کی تمام راتوں میں عبادت کے لئے جاگنا مستحب ہے ۔ ان راتوں میں بیویوں سے ہمبستری نہ کرنا ، عبادت میں مشغول رہنا اور آدمی کا اپنے گھر والوں کو بھی جگانا مستحب ہے

حدیث 2214–2214

باب: رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نیک اعمال میں خوب محنت کرنا مستحب ہے

حدیث 2215–2215

باب: رمضان المبارک میں آرام دہ بستر پر نہ سونا مستحب ہے کیونکہ آرام دہ بستر پر سونے والے کو نرم و گداز اور آرام دہ بستر پر نہ سونے والے شخص کی نسبت گہری نیند آتی ہے اور وہ نفل نماز کے لئے بہت کم چاق و چوبند ہوتا ہے

حدیث 2216–2216

اس باب کی تمام احادیث