کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: رمضان المبارک کی تئیسویں رات کو دیہاتی شخص کا مدینہ منوّرہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا مستحب ہے ۔ جبکہ ان کی رہائش مدینہ منوّرہ کے قریب ہو تاکہ وہ شب قدر کو مسجد نبوی میں رہ کر تلاش کریں
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ بِالْبَادِيَةِ ، وَأَنَا بِحَمْدِ اللَّهِ أُصَلِّي بِهَا ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا لِهَذَا الْمَسْجِدِ ، أُصَلِّيهَا فِيهِ ، قَالَ : " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ " . قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبْدِ اللَّهِ : فَكَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ : يَدْخُلُ صَلاةَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ لا يَخْرُجُ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ وَدَابَّتُهُ يَعْنِي عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَيَرْكَبُهَا فَيَأْتِي أَهْلَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، میں گاؤں میں رہتا ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ وہاں نماز بھی ادا کرتا ہوں ، تو آپ مجھے کسی رات کے بارے میں حُکم دیں جس رات میں اس مسجد میں آگر نماز ادا کروں ( یعنی مسجد نبوی میں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تئیسویں رات کو آجانا ۔ جناب محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کے بیٹے سے پوچھا ، آپ کے والد گرامی کیسے کیا کرتے تھے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے پھر صبح کی نماز ادا کرنے تک نہیں نکلتے تھے ۔ پھر وہ مسجد سے نکلتے تو اُن کی سواری مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی تو وہ اُس پر سوار ہوکر اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاتے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2200
تخریج حدیث حسن