کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بقیہ آخری عشرے کی طاق رات کبھی گزشتہ راتوں کے حساب سے بھی طاق ہو جاتی ہے - کیونکہ مہینہ کبھی اُنتیس دنوں کا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ ، قَالَ : لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ فِي غَرْفَةٍ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ( ایک مہینہ کی ) علیحدگی اختیار کی ۔ تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، آپ بالاخانے میں اُنتیس دن رہے ہیں ۔ ( ابھی مہینہ مکمّل نہیں ہوا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ “