حدیث نمبر: Q2173
حدیث نمبر: 2173
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ الأَكَابِرِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يَقُولُ : لا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا . فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وِتْرًا " ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ عُمَرَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مجھ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے تھے کہ جب تک بزرگ صحابہ کرام بات چیت نہ کرلیں تم گفتگونہ کرنا ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُن سے شب قدر کے بارے میں پوچھا تو کہا ، یقیناً تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ “ پھر اُنہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قصّہ بیان کیا ۔
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : " الأَبُّ : مِمَّا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِمَّا لا يَأْكُلُهُ النَّاسُ ، وَتَأْكُلُهُ الأَنْعَامُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں ” الأب “ اس گھاس اور چارے کو کہتے ہیں جو چوپائے کھاتے ہیں اور انسان نہیں کھاتے ۔