کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہے
حدیث نمبر: Q2171
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2171
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةٌ مِنْ حَصِيرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ . فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ ، فَكَلَّمَ النَّاسَ ، فَدَنَوْا مِنْهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأُوَلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْوَسَطَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " . فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ ، قَالَ : " وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتِهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " ، فَأَصْبَحَ فِي لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ ، وَجَبْهَتُهُ وَأَنْفُهُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ . هَذَا حَدِيثٌ شَرِيفٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے پہلے دس دن اعتکاف کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا عشرہ بھی ایک ترکی قبے میں اعتکاف کیا ، جس کے دروازے پر ایک چٹائی لٹکائی گئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ چٹائی پکڑی اور اُسے ہٹا کر قبے کے کونے میں رکھ دیا ۔ پھر اپنا سر مبارک باہر نکالا اور لوگوں سے بات چیت کی تو وہ آپ کے قریب آگئے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک میں نے شب قدر کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف کیا پھر میں نے درمیانے عشرے میں بھی اعتکاف کیا ۔ پھر خواب میں میرے پاس فرشتہ آیا تو مجھے بتایا گیا کہ شبِ قدر آخری عشرے میں ہے ۔ لہٰذا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اعتکاف کرے“ چنانچہ لوگوں نے آپ کے ساتھ ( آخری عشرے کا ) اعتکاف کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک مجھے وہ طاق راتوں میں دکھائی گئی ہے اور اس کی صبح کو میں نے کیچڑ میں سجدہ کیا ہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح تک نفل نماز ادا کی تھی تو بارش ہوگئی جس سے مسجد کی چھت ٹپکنے لگی ۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں نے کیچڑ دیکھا ۔ پھر جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوکر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ لگا ہوا تھا اور وہ آخری عشرے میں اکیسویں رات تھی ۔ یہ حدیث نہایت بلند مرتبہ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2171
تخریج حدیث صحيح بخاري