کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر بغیر کسی شک و شبہ کے رمضان المبارک میں ہے
حدیث نمبر: Q2170
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2170
حدیث نمبر: 2170
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، أَفِي رَمَضَانَ أَوْ فِي غَيْرِهِ ؟ فَقَالَ : " بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ مَعَ الأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا ، فَإِذَا قُبِضَ الأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " لا ، بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ ؟ قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ ، وَالْعَشْرِ الأَخِيرِ " . قَالَ : ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدَّثَ ، فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي ، أَوْ لَمَا أَخْبَرْتِنِي : فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلَيَّ مَا غَضِبَ عَلَيَّ مِثْلَهُ قَبْلَهُ ، وَلا بَعْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهَا ، الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت مرثد بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں سب لوگوں سے بڑھ کر شب قدر کے بارے میں سوال کرنے والا شخص تھا ۔ کہتے ہیں ، میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ، مجھے بتائیں کیا شب قدر رمضان المبارک میں ہے یا اس کے علاوہ کسی اور مہینے میں ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلکہ وہ رمضان میں ہے ۔“ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا شب قدر صرف انبیائے کرام کے زمانے میں ہوتی ہے ، جب انبیائے کرام فوت ہوجاتے ہیں تو شب قدر بھی اُٹھالی جاتی ہے ؟ یا یہ قیامت تک باقی رہے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ، بلکہ یہ قیامت تک رہے گی ۔“ میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ، کیا یہ رمضان میں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے پہلے اور آخری دس دس دنوں میں تلاش کرو ۔ کہتے ہیں کہ پھر آپ لوگوں کو بیان کرتے رہے تو میں نے آپ کی بے دھیانی سے فائدہ ُاٹھاتے ہوئے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ، میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ یہ کن بیس دنوں میں ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ایسے شدید ناراض ہوئے کہ اس جیسے ناراض نہ کبھی پہلے ہوئے تھے نہ کبھی بعد میں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں اس کی اطلاع کر دیتا ، تم اسے آخری سات دنوں میں تلاش کرو ۔“
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2170
تخریج حدیث اسناده ضعيف