کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت جس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے ، اس کے ذکر کے ساتھ اکیلے ہفتے کے دن کا نفل روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: Q2163
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ وَهِيَ الصَّمَّاءُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ ، إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودَ عِنَبَةٍ ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ اُس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو سوائے اس ہفتے کے جو تم پر فرض روزوں میں آجائے اور اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف انگور کی ٹہنی یا کسی درخت کی چھال ہی ملے تو وہ اُسے چبالے ( اور روزہ کھول دے ) ۔ “
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ ، وَيَقُولُ : " إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودًا أَخْضَرَ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : خَالَفَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ثَوْرَ بْنَ يَزِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، فَقَالَ ثَوْرٌ : عَنْ أُخْتِهِ ، يُرِيدُ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أُخْتِ بُسْرٍ ، عَمَّةِ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، لا أُخْتَ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت صماء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی شخص کو صرف سبز ٹہنی ہی ملے تو وہ اسی سے روزہ کھول لے ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب معاویہ بن صالح نے اس سند میں ثوربن یزید کی مخالفت کی ہے ۔ ثور نے روایت کرتے ہوئے صما ء کو حضرت عبداللہ بن بسر کی بہن قرار دیا ہے ۔ جبکہ جناب معاویہ نے حضرت صماء کو بسر کی بہن اور حضرت عبداللہ کی پھوپھی قرار دیا ہے ۔