کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: دن کا کچھ حصّہ گزرنے کے بعد نفلی روزے کھولنے کے جواز کا بیان ، اگرچہ گزرے ہوئے دن میں آدمی کی نیت روزے کی ہو ۔
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْنَا : لا . قَالَ : " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ " . قَالَتْ : ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَخَبَّأْنَا لَكَ ، فَقَالَ : " أَدْنِيهِ ، فَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " ، فَأَكَلَ . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عائشہ بنت طلحہ ، اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا : ” ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ “ ہم نے جواب دیا کہ جی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر میں روزے سے ہوں ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر ایک دن آپ تشریف لائے تو ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ، ہمیں حیس کا تحفہ دیا گیا ہے اور ہم نے آپ کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے آؤ میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھالیا ۔ یہ جناب وکیع کی روایت ہے ۔