حدیث نمبر: Q2141
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ طَعَامَنَا ، فَجَاءَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكِ الطَّعَامِ ؟ " . فَقُلْتُ : لا . فَقَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کھانے کو پسند فرماتے تھے ۔ پس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا : ’’ کیا تمہارے پاس اس کھانے سے کچھ ہے ؟ “ تو میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 2142
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَدْ ذَكَرْنَا أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ وَأَمْرِهِ بِالصَّوْمِ مَنْ لَمْ يَجْمَعْ صِيَامَهُ مِنَ اللَّيْلِ فِي أَبْوَابِ صَوْمِ عَاشُورَاءَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہم نے عاشوراء کے روزے کے ابواب میں عاشوراء کے روزے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کردی ہیں ۔ جن میں آپ کا یہ حُکم بھی ہے کہ جس شخص نے رات کو نیت نہیں بھی کی وہ بھی عاشوراء کا روزہ رکھے ۔