کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ عاشوراء کے روزے کی ابتداء ماہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی
حدیث نمبر: 2081
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , جَمِيعًا , عَنِ الأَعْمَشِ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَتَغَدَّى , وَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : ادْنُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَاطْعَمْ . قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَلْ تَدْرُونَ مَا كَانَ عَاشُورَاءُ ؟ قَالَ : وَمَا كَانَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ , ثُمَّ تَرَكَهُ " . وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , وَيُوسُفُ : فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ ، تَرَكَهُ . قَالَ يُوسُفُ : عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اشعث بن قیس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عاشوراء کے دن حاضر ہوئے جبکہ وہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابومحمد ، قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ ۔اُنہوں نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ عاشوراء کیا تھا ؟ اُنہوں نے پوچھا کہ عاشوراء کیا تھا ؟ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا ۔ جناب علی بن خشرم اور یوسف کی روایت میں ہے کہ پھر جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2081
تخریج حدیث صحيح مسلم