کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ماہ شعبان کے روزے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ملانا جائز ہے
حدیث نمبر: Q2078
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2078
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ , أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ عُقَيْلٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ أَشْهُرِ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ , كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے مہینوں میں سے ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ کے سارے روزے رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2078
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , وَذَكَرَ أَبَا سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ . وَزَادَ قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " , وَكَانَ أَحَبَّ الصَّلاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا مِنْهَا وَإِنْ قَلَّتْ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( اجر و ثواب دیتے ہوئے ) نہیں تھکتا حتّیٰ کہ تم ہی ( عمل کرکے ) تھک جاتے ہو “ اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ( نفلی ) نماز وہ تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی ، اگرچہ وہ تھوڑی سی ہو اور آپ کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ جب کوئی نماز پڑھتے تو اُسے ہمیشہ ادا کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2079
تخریج حدیث انظر الحديث السابق