کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: اس حدیث کا بیان جو افطاری کے وقت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ جبکہ میرے نزدیک اس کا معنی امر و حُکم کا ہے حدیث 2058–2058 باب: لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ کھولنے میں جلدی کریں گے اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ روزہ کھولنے میں تاخیر کریں گے تو وہ شر میں واقع ہو جائیں گے حدیث 2059–2059 باب: دین اسلام کے غلبے کا بیان - جب تک مسلمان افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے - اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ دین کا اطلاق اسلام کے بعض شعبوں پربھی ہو جاتا ہے حدیث 2060–2060 باب: نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اُس وقت تک مستحسن سمجھی جائے گی جب تک روزہ کھولنے کے لئے ستاروں کے طلوع کا انتظارنہیں کیا جائے گا حدیث 2061–2061 باب: جلدی روزہ افطار کرنے والوں سے اللہ تعالی کے محبت کرنے کا بیان حدیث 2062–2062 باب: نماز مغرب سے پہلے روزہ کھولنا مستحب ہے حدیث 2063–2063 باب: روزہ کھلوانے والے کو روزے دار کے اجر میں کمی کیے بغیر اُس کے برابر ثواب دیئے جانے کا بیان حدیث 2064–2064 باب: تازہ کھجور موجود ہو تو اُس سے روزہ کھولنا مستحب ہے اور اگر تازہ کھجور ( رطب ) موجود نہ ہو تو خشک کھجور سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے حدیث 2065–2065 باب: جب روزے دار کو تازہ خشک کھجوریں دونوں ہی نہ ملیں تو پانی کے ساتھ روزہ کھولنا مستحب ہے حدیث 2066–2066 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کھجور کی موجودگی میں کھجور کی برکت کے حصول کے لئے اس سے روزہ افطار کرنے کا حُکم استحبابی اور اختیاری ہے ، کیونکہ کھجور باعث برکت ہے اور کھجور کی عدم موجودگی میں پانی سے روزہ کھولنے کا حُکم بھی اختیاری اور مستحب ہے کیونکہ پانی پاکیزہ ہے ۔ یہ حکم واجب اور فرض نہیں ہے حدیث 2067–2067 باب: روزے میں وصال کرنے کی ممانعت کا بیان حدیث 2068–2069 باب: روزوں میں وصال کرنے کو دین میں تشدد اور غلو قرار دینے کا بیان حدیث 2070–2070 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وصال کرنا منع ہے حدیث 2071–2071 باب: سحری تک روزے میں وصال کرنے کی ممانعت کا بیان ۔ کیوں کہ افطاری کرنے میں جلدی کرنا تاخیر کرنے سے افضل ہے ، اگرچہ سحری تک وصال کرنے کی نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی حدیث 2072–2072 باب: سحری تک وصال کرنا جائز ہے اگرچہ ( مغرب کے وقت ) جلدی افطاری کرنا افضل ہے حدیث 2073–2073 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسلمانوں پر رمضان المبارک کے علاوہ صرف وہی روزے فرض ہیں جو اُن کے اپنے افعال اور اقوال کی وجہ سے فرض ہوتے ہیں کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں نے سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں ، منع ہے حدیث 2074–2074 باب: کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں نے سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں ، منع ہے حدیث 2075–2075 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯