کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ نذر ماننے والے مرد یا نذر ماننے والی عورت کی طرف سے اُس کے ولی ، قریبی رشتہ دار ، مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام ، آزاد کردہ لونڈی ہو یا غلام ، لونڈی کا روزوں کی قضا دینا جائزہے
حدیث نمبر: Q2055
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q2055
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ , حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ , عَنِ الْحَكَمِ , وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ , قَالَ : " أَرَأَيْتِ إِنْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ , أَكُنْتِ قَضَيْتِهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ : عَنِ الْحَكَمِ , وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ إِلا هُوَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری بہن فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ دوماہ کے مسلسل روزے فرض ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے بتاؤ اگر تمہاری بہن کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اُسے ادا کرتیں ؟ “ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اللہ کا حق ادا ئیگی کا زیادہ حقدار ہے ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب حکم اور سلمہ بن کبیل سے صرف انہوں ( اعمش ) نے ہی روایت بیان کی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2055
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔