کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا رخصت ہے ، روزہ نہ رکھنا فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ , فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ , فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلا جُنَاحٌ عَلَيْهِ " . قَالَ : وَفِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ , فَاقْبَلُوهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ” اے اللہ کے رسول ، میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا ( روزہ رکھنے کی صورت میں ) مجھے کوئی گناہ ہو گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے تو جو شخص اس رخصت سے فائدہ اُٹھائے تو بہت اچھا ہے ۔ اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرو ، جو رخصت اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اسے قبول کرو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2026
تخریج حدیث صحيح مسلم