فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه

باب: سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی آپ کی ایک حدیث کا بیان

حدیث 2016–2016

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ کے سبب کا بیان

حدیث 2017–2018

باب: اس روایت کا بیان جو نبی کریم سے مروی ہے کہ آپ نے سفر میں روزہ رکھنے والوں کو نافرمان قرار دیا ، مگر اس روایت میں انہیں نافرمان قرار دئیے جانے کی علت بیان نہیں ہوئی جس سے بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے ۔

حدیث 2019–2019

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافرمان اس لئے قرار دیا تھا کہ آپ نے انہیں روزہ کھولنے کا حُکم دیا تھا اور اُنہوں نے روزہ رکھے رکھا اور کھولا نہیں ۔ اور جس شخص کو کسی کام کا حُکم دیا جائے اگرچہ وہ کام مباح ہو یا فرض ، واجب تو مباح کام کے ترک کرنے والے کو بھی نافرمان کہنا جائز ہے

حدیث 2020–2022

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے سال ( دوران سفر ) صحابہ کرام کو روزہ کھولنے کا حُکم اس لئے دیا تھا کیونکہ روزہ کھولنا اُن کے لئے جنگ میں قوت و طاقت کا باعث تھا ۔ یہ وجہ نہیں تھی کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں

حدیث 2023–2023

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کو اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے چھوڑنے پر سخت وعید کا بیان

حدیث 2024–2024

باب: مسافر سے روزے کی فرضیت ساقط ہونے کا بیان

حدیث 2025–2025

باب: اس بات کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا رخصت ہے ، روزہ نہ رکھنا فرض نہیں ہے

حدیث 2026–2026

باب: اللہ تعالی کی اپنے مؤمن بندوں کو دی ہوئی رخصت کو قبول کرتے ہوئے رمضان المبارک میں سفر کے دوران روزہ نہ رکھنا مستحب ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنی رخصت کو قبول کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

حدیث 2027–2027

باب: مسافر کو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار دینے کا بیان

حدیث 2028–2029

باب: طاقت و قوت رکھنے والے شخص کے لئے سفر میں روزہ رکھنا مستحب ہے اور جو کمزور اور ضعیف ہو اُس کے لئے روزہ چھوڑنا مستحب ہے

حدیث 2030–2030

باب: اگر روزہ رکھ کر اپنی خدمت کرنے سے بھی عاجز آجائے تو سفر میں روزہ نہ رکھنا مستحب ہے

حدیث 2031–2031

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سفر میں روزہ نہ رکھنے والا خادم ، سفر میں روزہ رکھنے والے مخدوم سے بہتر و افضل ہے

حدیث 2032–2033

باب: سفر میں رمضان المبارک کے کچھ روزے رکھنے اور کچھ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان

حدیث 2034–2034

باب: اس روایت کا بیان جس سے بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا ، سفر میں روزہ رکھنے کے جواز کا ناسخ ہے

حدیث 2035–2035

باب: اس بات کا بیان کہ یہ الفاظ ” آپ کے آخری فرمان پر عمل ہوگاط “ یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ نہیں ہیں ۔

حدیث 2036–2036

باب: اس بات کی دوسری دلیل کہ فتح مکّہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کھولنے کا حُکم دینا سفر میں روزہ رکھنے کے جواز کا ناسخ نہیں ہے

حدیث 2037–2037

باب: جو شخص نے حالت اقامت میں کچھ روزے رکھے ہوں اُسے رمضان المبارک میں سفر کے دورانِ روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے

حدیث 2038–2038

باب: رمضان المبارک میں سفر کے دوران میں روزہ کھولنے کی اجازت کا بیان جبکہ دن کا کچھ حصّہ گزر چکا ہو ۔ اور آدمی کی نیت بھی روزہ رکھنے کی ہو

حدیث 2039–2039

باب: جس دن آدمی اپنے شہرسے سفر کے لئے نکلے اس دن روزہ نہ رکھنے کی اجازت کا بیان ، بشرطیکہ حدیث صحیح ہو

حدیث 2040–2040

باب: رمضان المبارک میں ایک دن ، رات کی مسافت سے کم مسافت پر روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان

حدیث 2041–2041

باب: رمضان المبارک میں حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لئے روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے

حدیث 2042–2044

باب: عورتوں سے ان کے ایام حیض میں روزے کی فرضیت ساقط ہونے کا بیان

حدیث 2045–2045

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ حائضہ عورت طہارت کے دنوں میں روزے کی قضا دے گی اور حیض کے دنوں میں ساقط ہونے والے فرض روزے کی قضا آئندہ شعبان تک دینے کی اسے رخصت ہے

حدیث 2046–2051

باب: میت کے ولی کا میت کی طرف سے ماہ رمضان کے روزوں کی قضا ادا کرنے کا بیان جبکہ وہ اس حال میں مرا کہ وہ روزوں کی قضا دے سکتا تھا ۔ لیکن اس نے قضا دینے میں کوتاہی برتی ۔

حدیث 2052–2052

باب: فوت شدہ عورت کے ذمہ واجب روزوں کی قضا ادا کرنے کا بیان

حدیث 2053–2053

باب: اگر روزوں کی نذر ماننے والی عورت نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہوجائے تو اس کی نذر کے روزوں کی قضا ادا کرنے کے حُکم کا بیان

حدیث 2054–2054

باب: اس بات کا بیان کہ نذر ماننے والے مرد یا نذر ماننے والی عورت کی طرف سے اُس کے ولی ، قریبی رشتہ دار ، مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام ، آزاد کردہ لونڈی ہو یا غلام ، لونڈی کا روزوں کی قضا دینا جائزہے

حدیث 2055–2055

باب: جس میت کے ذمہ فرض روزے ہوں اُس کی طرف سے روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ، بشرطیکہ روایت صحیح ہو ۔ کیونکہ اشعث بن سوار رحمہ اللہ کے ُبرے حافظے کی وجہ سے میرا دل غیر مطمئن ہے

حدیث 2056–2056

باب: روزے کے کفّارے میں ہر روز مسکین کو کھانا کھلانے کے ناپ کی مقدار کا بیان بشرطیکہ روایت صحیح ہو ۔ کیونکہ اس سند کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے

حدیث 2057–2057

اس باب کی تمام احادیث