کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: روزے دار کے لئے جماع کے سوا مباشرت کرنے کی رخصت کا بیان حدیث 1998–1998 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزے دار کے بوسے کو پانی کے ساتھ کلّی کرنے کے مثل قرار دینے کا بیان حدیث 1999–1999 باب: روزے دار کو بوسہ لینے کی رخصت ہے حدیث 2000–2000 باب: روزے دار کو بیویوں کے سروں اور اُن کے چہروں کا بوسہ لینے کی رخصت ہے ۔ اُن علماء کے مذہب کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں حدیث 2001–2002 باب: روزے دار کے لئے اپنی بیوی کی زبان چوسنے کی رخصت ہے ، ان علماء کے موقف کے برخلاف جو روزے دار کے لئے منہ کا بوسہ لینا مکروہ قرار دیتے ہیں ۔ بشرطیکہ مصدع ابی یحییٰ کی روایت کو حجت بنانا درست ہو ، کیونکہ مجھے اس کے متعلق جرح و تعدیل کا علم نہیں حدیث 2003–2003 باب: روزے دار کے لئے روزے دار بیوی کا بوسہ لینے کی رخصت ہے حدیث 2004–2004 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ روزے دار کے لئے بوسہ لینے کی رخصت تمام روزے داروں کے لئے ہے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص نہیں حدیث 2005–2005 باب: روزے دارکو مسواک کرنے کی رخصت ہے حدیث 2006–2007 باب: روزے دار کے لئے سرمہ لگانے کی رخصت ہے بشرطیکہ روایت صحیح ہو اور اگر روایت صحیح نہ ہو تو قرآن مجید سرمہ لگانے کے جواز پر دلالت کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے «فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ » ” اب تم ( بیویوں سے رات کے وقت ) مباشرت کرسکتے ہو “ یہ فرمان باری تعالیٰ روزے دار کے لئے سرمہ لگانے کی رخصت کی دلیل ہے حدیث 2008–2008 باب: جنبی شخص روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ غسل جنابت کو طلوع فجر تک مؤخر کرسکتا ہے حدیث 2009–2010 باب: اس حدیث کا بیان جس میں جنبی شخص کو جنابت کی حالت میں صبح ہو جانے پر روزہ رکھنے کی ممانعت کا ذکر ہے حدیث 2011–2012 باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ جنابت جس کے بعد آپ نے طلوع فجر تک غسل مؤخر کردیا تھا اور روزہ رکھ لیا تھا ، وہ جنابت جماع کی وجہ سے تھی ، احتلام کے سبب سے نہیں تھی ۔ حدیث 2013–2013 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر اُس شخص کے لئے روزہ رکھنا جائز ہے جو جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہے اور طلوع فجر کے بعد غسل کرتا ہے حدیث 2014–2015 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯