کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: رمضان المبارک کا روزہ جماع کرکے توڑنے کا گناہ کرنے والے شخص کو استغفار کرنے کا حُکم دینے کا بیان ۔ جبکہ وہ گردن آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کا کفّارہ ادا نہ کرسکتا ہو اور نہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہو ۔ اور رمضان المبارک میں جماع کرنے کا کفّارہ کھجوریں کھلا کر ادا کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q1949
حدیث نمبر: 1949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ حَدَّثَهُمْ , عَنْ عُقَيْلٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكْتُ . قَالَ : " وَيْحَكَ ، مَا شَأْنُكَ ؟ " قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ . قَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ : مَا أَجِدُهَا . قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ : مَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ : مَا أَجِدُهُ . قَالَ : فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ , فَقَالَ : " خُذْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ " , قَالَ : مَا أَجِدُ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَهْلِي , يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ . قَالَ : " خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ، میں ہلاک ہوگیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہارا بھلا ہو تمہیں کیا ہوا ہے ؟“ اُس نے جواب دیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک گردن آزاد کرو ۔“ اُس نے کہا کہ میرے پاس گردن آزاد کرنے کی قوت نہیں ہے ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ـ“ اُس نے عرض کی کہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا : ”ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو“ اُس نے کہا کہ میرے پاس اتنا اناج بھی نہیں ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ٹوکرا لے لو اور اس کا صدقہ کردو ۔“ وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ، میں اپنے گھر والوں سے زیادہ اس کا حقدار کسی کو نہیں پاتا ، مدینہ منوّرہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ اس کا محتاج کوئی نہیں ہے ۔ تو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنس دیئے حتّیٰ کہ آپ کے نوکیلے دانت مبارک ظاہر ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لے لو اور ﷲ تعالیٰ سے بخشش مانگو ۔“