فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه

باب: دن کے وقت روزے کو جماع کے ساتھ توڑنے والے کا بیان

حدیث 1943–1943

باب: رمضان المبارک میں بیوی سے ہمبستری کرکے روزہ توڑنے والے شخص پر کفّارہ واجب ہے

حدیث 1944–1944

باب: امام کا رمضان المبارک کے دن میں جماع کرکے روزہ توڑنے والے کو کفّارہ ادا کرنے کے لئے عطیہ دینا جبکہ اس کے پاس کفّارہ ادا کرنے کے لئے کچھ موجود نہ ہو ۔ اس دلیل کے ساتھ کہ رمضان المبارک کے دن میں ہمبستری کرکے روزہ توڑںے والے کے پاس اگر ہمبستری کے وقت کفارہ ادا کرنے کی طاقت نہ ہوتو پھر اُسے کفّارہ ادا کرنے کی طاقت حاصل ہوجائے تو اُس پر کفّارہ ادا کرنا واجب ہوگا

حدیث 1945–1945

باب: اس مختصر روایت کا بیان جس سے بعض حجازی علماء کو وہم ہوا کہ رمضان المبارک کے دن میں بیوی سے جماع کرنے والے شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ کفّارے میں مساکین کو کھانا کھلادے اگرچہ وہ گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو

حدیث 1946–1946

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماع کرنے والے شخص کو صدقہ کرنے کا حُکم اس کی اس اطلاع کے بعد دیا تھا کہ وہ ایک گردن آزاد نہیں کرسکتا ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اُس نے بتادیا ہو کہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے بھی نہیں رکھ سکتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے ۔ لہٰذا یہ روایت مختصر بیان کی ہے

حدیث 1947–1947

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمضان میں جماع کرنے والا شخص جب ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی ملکیت رکھتا ہو لیکن اُس کے پاس اپنی اور اپنے گھر والوں کو خوراک میسر نہ ہو تو اُس پر کفّارہ واجب نہیں ہے

حدیث 1948–1948

باب: رمضان المبارک کا روزہ جماع کرکے توڑنے کا گناہ کرنے والے شخص کو استغفار کرنے کا حُکم دینے کا بیان ۔ جبکہ وہ گردن آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کا کفّارہ ادا نہ کرسکتا ہو اور نہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہو ۔ اور رمضان المبارک میں جماع کرنے کا کفّارہ کھجوریں کھلا کر ادا کرنے کے حُکم کا بیان

حدیث 1949–1949

باب: رمضان المبارک کے روزے کی حالت میں جماع کرنے کے کفّارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لئے کجھوریں ناپنے کے برتن کی مقدار کا بیان

حدیث 1950–1951

باب: ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے روزے کے دوران جماع کرنے کے کفّارے میں ایک مسکین کو ساٹھ دنوں میں ساٹھ مساکین کا کھانا کھلانا جائز ہے ۔ ہر روز ایک مسکین کو کھانا اسے دے دیا جائے ۔ اس شخص نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے اور ساٹھ مسکینوں کے کھانے میں فرق نہیں کیا ۔ جو شخص لغتِ عرب کو سمجھتا ہو وہ جانتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا اسی وقت ممکن ہے جب ہر مسکین دوسرے سے مختلف ہو

حدیث 1952–1952

باب: اس بات کی دلیل کا بیان جماع کے کفّارے میں دو ماہ کے متفرق روزے رکھنا جائز نہیں ہے ۔ بلکہ دو ماہ مسلسل روزے رکھنا واجب ہے

حدیث 1953–1953

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب جماع کرنے والے پر دو ماہ کے مسلسل روزے واجب ہوں اور وہ ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتے حتیٰ کہ اسے موت آجائے تو اُس کی طرف سے روزے کی قضا دی جائے گی جیسا کہ اس کا مالی قرض ادا کیا جاتا ہے ۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ اللہ تعالی کا قرض بندوں کے قرض کی نسبت ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے

حدیث 1953–1953

باب: جماع کرنے والے کو اس دن کے بدلے ایک روزے کی قضا دینے کے حُکم کا بیان جس دن میں اس نے جماع کیا تھا ۔ جبکہ اس کے پاس مذکورہ کفّارہ موجود نہ ہو ۔ بشرطیکہ حدیث صحیح ہو ۔ کیونکہ میرا دل اس روایت سے مطمئن نہیں ہے

حدیث 1954–1955

باب: اس بات کا بیان کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

حدیث 1956–1959

باب: جو شخص جان بوجھ کر قے کرے اس پر روزے کی قضا دینا واجب ہے

حدیث 1960–1961

باب: اس بات کا بیان کہ سینگی لگوانے سے سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے

حدیث 1962–1984

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ناک میں ڈالنے والی دوا اور ہر وہ چیز جو نتھنوں کے ذریعے سے ناک میں چلی جائے ، اس سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے

حدیث 1985–1985

باب: افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھولنے والوں کو اُن کی کونچوں سے لٹکا ئے جانے اور آخرت میں انہیں عذاب دیئے جانے کا بیان

حدیث 1986–1986

باب: رمضان المبارک میں بغیر شرعی رخصت کے جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے پر سخت وعید کا بیان بشرطیکہ حدیث صحیح ہو کیونکہ میں ابن مطوس اور اس کے والد کو نہیں جانتا ، جناب حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ہے کہ وہ ابومطوس کو ملے ہیں

حدیث 1987–1988

باب: روزے دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو اُس کا روزہ نہیں ٹوٹتا

حدیث 1989–1989

باب: روزے کی حالت میں کھانے اور پینے والے پر قضاء اور کفّارہ واجب نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ کھاتے پیتے وقت روزے کو بھول گیا ہو

حدیث 1990–1990

باب: غروب آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرلینے کا بیان جبکہ روزے دار کے خیال میں سورج غروب ہوچکا تھا

حدیث 1991–1991

اس باب کی تمام احادیث