کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: دن کے وقت روزے کو جماع کے ساتھ توڑنے والے کا بیان حدیث 1943–1943 باب: رمضان المبارک میں بیوی سے ہمبستری کرکے روزہ توڑنے والے شخص پر کفّارہ واجب ہے حدیث 1944–1944 باب: امام کا رمضان المبارک کے دن میں جماع کرکے روزہ توڑنے والے کو کفّارہ ادا کرنے کے لئے عطیہ دینا جبکہ اس کے پاس کفّارہ ادا کرنے کے لئے کچھ موجود نہ ہو ۔ اس دلیل کے ساتھ کہ رمضان المبارک کے دن میں ہمبستری کرکے روزہ توڑںے والے کے پاس اگر ہمبستری کے وقت کفارہ ادا کرنے کی طاقت نہ ہوتو پھر اُسے کفّارہ ادا کرنے کی طاقت حاصل ہوجائے تو اُس پر کفّارہ ادا کرنا واجب ہوگا حدیث 1945–1945 باب: اس مختصر روایت کا بیان جس سے بعض حجازی علماء کو وہم ہوا کہ رمضان المبارک کے دن میں بیوی سے جماع کرنے والے شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ کفّارے میں مساکین کو کھانا کھلادے اگرچہ وہ گردن آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو حدیث 1946–1946 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماع کرنے والے شخص کو صدقہ کرنے کا حُکم اس کی اس اطلاع کے بعد دیا تھا کہ وہ ایک گردن آزاد نہیں کرسکتا ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اُس نے بتادیا ہو کہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے بھی نہیں رکھ سکتا جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے ۔ لہٰذا یہ روایت مختصر بیان کی ہے حدیث 1947–1947 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمضان میں جماع کرنے والا شخص جب ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی ملکیت رکھتا ہو لیکن اُس کے پاس اپنی اور اپنے گھر والوں کو خوراک میسر نہ ہو تو اُس پر کفّارہ واجب نہیں ہے حدیث 1948–1948 باب: رمضان المبارک کا روزہ جماع کرکے توڑنے کا گناہ کرنے والے شخص کو استغفار کرنے کا حُکم دینے کا بیان ۔ جبکہ وہ گردن آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کا کفّارہ ادا نہ کرسکتا ہو اور نہ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہو ۔ اور رمضان المبارک میں جماع کرنے کا کفّارہ کھجوریں کھلا کر ادا کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1949–1949 باب: رمضان المبارک کے روزے کی حالت میں جماع کرنے کے کفّارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لئے کجھوریں ناپنے کے برتن کی مقدار کا بیان حدیث 1950–1951 باب: ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے روزے کے دوران جماع کرنے کے کفّارے میں ایک مسکین کو ساٹھ دنوں میں ساٹھ مساکین کا کھانا کھلانا جائز ہے ۔ ہر روز ایک مسکین کو کھانا اسے دے دیا جائے ۔ اس شخص نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے اور ساٹھ مسکینوں کے کھانے میں فرق نہیں کیا ۔ جو شخص لغتِ عرب کو سمجھتا ہو وہ جانتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا اسی وقت ممکن ہے جب ہر مسکین دوسرے سے مختلف ہو حدیث 1952–1952 باب: اس بات کی دلیل کا بیان جماع کے کفّارے میں دو ماہ کے متفرق روزے رکھنا جائز نہیں ہے ۔ بلکہ دو ماہ مسلسل روزے رکھنا واجب ہے حدیث 1953–1953 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب جماع کرنے والے پر دو ماہ کے مسلسل روزے واجب ہوں اور وہ ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتے حتیٰ کہ اسے موت آجائے تو اُس کی طرف سے روزے کی قضا دی جائے گی جیسا کہ اس کا مالی قرض ادا کیا جاتا ہے ۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ اللہ تعالی کا قرض بندوں کے قرض کی نسبت ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے حدیث 1953–1953 باب: جماع کرنے والے کو اس دن کے بدلے ایک روزے کی قضا دینے کے حُکم کا بیان جس دن میں اس نے جماع کیا تھا ۔ جبکہ اس کے پاس مذکورہ کفّارہ موجود نہ ہو ۔ بشرطیکہ حدیث صحیح ہو ۔ کیونکہ میرا دل اس روایت سے مطمئن نہیں ہے حدیث 1954–1955 باب: اس بات کا بیان کہ جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے حدیث 1956–1959 باب: جو شخص جان بوجھ کر قے کرے اس پر روزے کی قضا دینا واجب ہے حدیث 1960–1961 باب: اس بات کا بیان کہ سینگی لگوانے سے سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے حدیث 1962–1984 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ناک میں ڈالنے والی دوا اور ہر وہ چیز جو نتھنوں کے ذریعے سے ناک میں چلی جائے ، اس سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے حدیث 1985–1985 باب: افطاری کے وقت سے پہلے روزہ کھولنے والوں کو اُن کی کونچوں سے لٹکا ئے جانے اور آخرت میں انہیں عذاب دیئے جانے کا بیان حدیث 1986–1986 باب: رمضان المبارک میں بغیر شرعی رخصت کے جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے پر سخت وعید کا بیان بشرطیکہ حدیث صحیح ہو کیونکہ میں ابن مطوس اور اس کے والد کو نہیں جانتا ، جناب حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ہے کہ وہ ابومطوس کو ملے ہیں حدیث 1987–1988 باب: روزے دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو اُس کا روزہ نہیں ٹوٹتا حدیث 1989–1989 باب: روزے کی حالت میں کھانے اور پینے والے پر قضاء اور کفّارہ واجب نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ کھاتے پیتے وقت روزے کو بھول گیا ہو حدیث 1990–1990 باب: غروب آفتاب سے پہلے روزہ افطار کرلینے کا بیان جبکہ روزے دار کے خیال میں سورج غروب ہوچکا تھا حدیث 1991–1991 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯