کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: دن کے روزے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق کرنے کے لئے سحری کھانا مستحب ہے اور اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا بیان کیونکہ وہ سحری نہیں کھاتے
حدیث نمبر: 1940
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، نا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا وَكِيعٌ ، كِلاهُمَا , عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا , وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أُكْلَةُ السَّحُورِ " . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوقیس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے ۔ “ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ ” تمہارے روزوں ( اور اہل کتاب کے روزوں ) کے درمیان ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1940
تخریج حدیث صحيح مسلم