کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: مذکورہ بالا فجر کی صفت یہ ہے کہ وہ چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں نہیں
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الدَّوْرَقِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَمْنَعَنَّ أَذَانُ بِلالٍ أَحَدًا مِنْكُمْ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُنَادِي أَوْ يُؤَذِّنُ لِيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ " . قَالَ : " وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ يَعْنِي الصُّبْحَ هَكَذَا أَوْ قَالَ هَكَذَا ، وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ : هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي طُولا , وَلَكِنْ هَكَذَا يَعْنِي عَرَضًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کو بلال ( رضی اللہ عنہ ) کی اذان اُسے سحری کرنے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان اس لئے دیتے ہیں تاکہ تمہارا سونے والے جاگ جائے اور نماز تہجّد کے لئے کھڑا ہونے والا ( سحری کھانے کے لئے گھر ) لوٹ جائے ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح اس طرح ( لمبائی میں ) ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس طرح یعنی چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1928
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلالٍ , وَلا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں بلال ( رضی اللہ عنہ ) کی اذان اور صبح کی عمودی سفیدی دھوکے میں نہ ڈالے ( اور تم سحری کھانا چھوڑ بیٹھو ) یہاں تک ( صبح صادق کی ) روشنی چوڑائی میں پھیل جائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1929
تخریج حدیث صحيح مسلم