کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”حتّیٰ کہ صبح کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے “ سے اللہ تعالیٰ کی مراد رات کے بعد دن کی سفیدی کا ظاہر ہونا ہے ۔
حدیث نمبر: Q1925
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: Q1925
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت « وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ » [ سورة البقرة : 187 ] ” اور تم کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے “ اُتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک یہ رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا نمایاں ہونا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1925
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ؟ أَهُمَا الْخَيْطَانِ ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا ، أَرَأَيْتَ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ قَطُّ " ؟ ثُمَّ قَالَ : " لا بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول سیاہ دھاگے اور سفید دھاگے سے کیا مراد ہے ؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک تم چوڑی گُدی والے ہو ۔ “ مجھے بتاؤ کیا تم نے کبھی دو دھاگے دیکھے ہیں ؟ پھر فرمایا : ” نہیں ، بلکہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ـ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1926
تخریج حدیث انظر الحديث السابق