کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: چاند کی روَیت کے لئے ایک گواہ کی گواہی جائز ہے ۔
حدیث نمبر: 1923
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، نا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : أَبْصَرْتُ الْهِلالَ اللَّيْلَةَ . فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " قُمْ يَا فُلانُ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو اُس نے کہا کہ میں نے آج رات چاند دیکھا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں ، کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ صبح روزہ رکھیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1923
تخریج حدیث ضعيف
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَنَحْوِهِ . وَقَالَ : أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ بِالنَّاسِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب زائدہ کی سند سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1924
تخریج حدیث انظر الحديث السابق