فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه

باب: اگر بادلوں کی وجہ سے چاند لوگوں سے چھپا نہ ہو تو چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کے حُکم کا بیان

حدیث 1905–1905

باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالی نے چاند کو لوگوں کے لئے روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے

حدیث 1906–1906

باب: جب لوگوں پر بادل چھا جائیں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرنے کے حُکم کا بیان

حدیث 1907–1907

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب آسمان پر بادل چھا جائیں تو رمضان المبارک کا اندازہ کرنے کے لئے شعبان کے تیس دن شمار کریں گے پھر روزے رکھے جائیں گے

حدیث 1908–1909

باب: ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جن کا دعویٰ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنے کا حُکم دیا ہے ، شعبان کے تیس دن مکمّل کرنے کا حُکم نہیں دیا

حدیث 1910–1910

باب: جب رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیئے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے

حدیث 1911–1912

باب: جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو رمضان کا چاند دیکھے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے ۔ اسی طرح اگر چاند بادل میں چھپا نہ ہو تو شوال کا چاند دیکھے بغیر روزے رکھنا بند کرنا بھی منع ہے

حدیث 1913–1913

باب: مجمل غیر مفسر لفظ کے ساتھ اس دن کے روزے کی ممانعت کا بیان جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا

حدیث 1914–1914

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ چاند جس رات میں چھوٹا یا بڑا دکھائی دیتا ہے وہ اسی رات کا ہوگا جب تک مہینے کے تیس دن مکمّل نہ ہوجائیں پھر بادل وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے ( تو تیس دن مکمّل کرنا ہوںگے )

حدیث 1915–1915

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر ملک اور شہر والوں کے لئے اپنے ملک اور شہر کی روَیت کے مطابق رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے ۔ دوسرے علاقے کے لوگوں کی روَیت کا اعتبار نہیں ہوگا

حدیث 1916–1916

باب: مہینہ اُنتیس دن کا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات کا بیان جن کے الفاظ عام ہیں اور ان کی مراد خاص ہے

حدیث 1917–1918

باب: عوام اور جاہل لوگوں کے اسں وہم کے برخلاف دلیل کا بیان کہ جب چاند بڑا اور روشن ہو تو وہ گزشتہ رات کا ہوتا ہے موجودہ رات کا نہیں ہوتا

حدیث 1919–1919

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی اُمّت کو کلام کے بغیر اشارے کے ساتھ بتانا کہ مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ اور آپ کا انہیں یہ بتانا کہ آپ ان پڑھ ہیں ، لکھنا اور حساب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہیں ۔ اسں دلیل کے بیان کے ساتھ کہ بولنے والے شخص کا سمجھا جانے والا اشارہ حُکم میں کلام کے قائم مقام ہو گا ۔ جیسا کہ گونگے شخص کا اشارہ ہوتا ہے

حدیث 1920–1920

باب: گزشتہ مجمل لفظ کی تفسیر بیان کرنے والی روایت کا بیان

حدیث 1921–1921

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رمضان المبارک کے اُنتیس روزوں کی تعداد روزوں کی نسبت زیادہ تھی ۔ ان جاہل اور بے عقل لوگوں کے خیال کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ ہر رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنا واجب ہے

حدیث 1922–1922

باب: چاند کی روَیت کے لئے ایک گواہ کی گواہی جائز ہے ۔

حدیث 1923–1924

باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”حتّیٰ کہ صبح کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے “ سے اللہ تعالیٰ کی مراد رات کے بعد دن کی سفیدی کا ظاہر ہونا ہے ۔

حدیث 1925–1926

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر دو قسم کی ہے ۔ اور دوسری فجر کے طلوع ہونے سے روزے دار کے لئے کھانا پینا اور جماع کرنا حرام ہو جاتا ہے پہلی فجر سے نہیں ہوتا اور یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فرامین کی وضاحت کی ذمہ داری اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی ہے

حدیث 1927–1927

باب: مذکورہ بالا فجر کی صفت یہ ہے کہ وہ چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں نہیں

حدیث 1928–1929

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ دوسری فجر جو ہم نے ذکر کی ہے وہ چوڑائی میں پھیلنے والی سفیدی ہے اور اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے - بشر طیکہ روایت صحیح ہو- کیونکہ میں عبداللہ بن نعمان کے بارے میں جرح وتعدیل نہیں جانتا- اور ملازم بن عمرو کے سوا اُن سے روایت کرنے والا کوئی شاگرد بھی مجھے معلوم نہیں ہے -

حدیث 1930–1930

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر سے پہلے کی اذان روزے دار کو اس کے کھانے ، پینے اور جماع کرنے سے نہیں روکتی ۔ عوام کے خیال کے بر خلاف جو اسے روکنے والی خیال کرتے ہیں ۔

حدیث 1931–1931

باب: سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کے درمیان وقفے کا بیان

حدیث 1932–1932

باب: طلوع فجر سے پہلے فرضی روزے کا پختہ عزم اور نیت کرنا واجب ہے اس سلسلے میں عام الفاظ کا بیان جن کی مراد خاص ہے

حدیث 1933–1933

باب: ہر روزے کے لئے نیت اس دن کے طلوع فجر سے پہلے پہلے کرنا واجب ہے ۔ اُن لوگوں کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ پورے مہینے کے لئے ایک ہی وقت میں ایک ہی بار نیت کرلینا جائز ہے

حدیث 1934–1934

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : ” جس نے رات کے وقت روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے ۔ “ سے آپ کی مراد فرضی روزہ ہے نفلی روزہ مراد نہیں ۔

حدیث 1935–1935

باب: سحری کھانے کا حُکم مستحب اور راہنمائی کے لئے ہے کیونکہ سحری کھانا بابرکت ہے ۔ یہ حُکم فرض و واجب نہیں کہ سحری نہ کھانے والا گناہ گار شمار ہو

حدیث 1936–1937

باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سحری پر صبح کے کھانے کا لفظ غداء بھی بول دیا جاتا ہے

حدیث 1938–1938

باب: سحری کھانے سے روزہ رکھنے میں مدد لینے کے حُکم کا بیان بشرطیکہ زمعہ بن صالح کی روایت سے دلیل لینا درست ہو کیونکہ ان کے بُرے حافظے کی وجہ سے میرا دل غیر مطمئن ہے

حدیث 1939–1939

باب: دن کے روزے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق کرنے کے لئے سحری کھانا مستحب ہے اور اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا بیان کیونکہ وہ سحری نہیں کھاتے

حدیث 1940–1940

باب: سحری کھانے میں تاخیر کرنے کا بیان

حدیث 1941–1942

اس باب کی تمام احادیث