کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: اگر بادلوں کی وجہ سے چاند لوگوں سے چھپا نہ ہو تو چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کے حُکم کا بیان حدیث 1905–1905 باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالی نے چاند کو لوگوں کے لئے روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے حدیث 1906–1906 باب: جب لوگوں پر بادل چھا جائیں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1907–1907 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب آسمان پر بادل چھا جائیں تو رمضان المبارک کا اندازہ کرنے کے لئے شعبان کے تیس دن شمار کریں گے پھر روزے رکھے جائیں گے حدیث 1908–1909 باب: ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جن کا دعویٰ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنے کا حُکم دیا ہے ، شعبان کے تیس دن مکمّل کرنے کا حُکم نہیں دیا حدیث 1910–1910 باب: جب رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیئے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے حدیث 1911–1912 باب: جب مطلع ابر آلود نہ ہو تو رمضان کا چاند دیکھے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے ۔ اسی طرح اگر چاند بادل میں چھپا نہ ہو تو شوال کا چاند دیکھے بغیر روزے رکھنا بند کرنا بھی منع ہے حدیث 1913–1913 باب: مجمل غیر مفسر لفظ کے ساتھ اس دن کے روزے کی ممانعت کا بیان جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا حدیث 1914–1914 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ چاند جس رات میں چھوٹا یا بڑا دکھائی دیتا ہے وہ اسی رات کا ہوگا جب تک مہینے کے تیس دن مکمّل نہ ہوجائیں پھر بادل وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے ( تو تیس دن مکمّل کرنا ہوںگے ) حدیث 1915–1915 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر ملک اور شہر والوں کے لئے اپنے ملک اور شہر کی روَیت کے مطابق رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے ۔ دوسرے علاقے کے لوگوں کی روَیت کا اعتبار نہیں ہوگا حدیث 1916–1916 باب: مہینہ اُنتیس دن کا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات کا بیان جن کے الفاظ عام ہیں اور ان کی مراد خاص ہے حدیث 1917–1918 باب: عوام اور جاہل لوگوں کے اسں وہم کے برخلاف دلیل کا بیان کہ جب چاند بڑا اور روشن ہو تو وہ گزشتہ رات کا ہوتا ہے موجودہ رات کا نہیں ہوتا حدیث 1919–1919 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی اُمّت کو کلام کے بغیر اشارے کے ساتھ بتانا کہ مہینہ اُنتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ اور آپ کا انہیں یہ بتانا کہ آپ ان پڑھ ہیں ، لکھنا اور حساب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہیں ۔ اسں دلیل کے بیان کے ساتھ کہ بولنے والے شخص کا سمجھا جانے والا اشارہ حُکم میں کلام کے قائم مقام ہو گا ۔ جیسا کہ گونگے شخص کا اشارہ ہوتا ہے حدیث 1920–1920 باب: گزشتہ مجمل لفظ کی تفسیر بیان کرنے والی روایت کا بیان حدیث 1921–1921 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں رمضان المبارک کے اُنتیس روزوں کی تعداد روزوں کی نسبت زیادہ تھی ۔ ان جاہل اور بے عقل لوگوں کے خیال کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ ہر رمضان کے تیس روزے مکمّل کرنا واجب ہے حدیث 1922–1922 باب: چاند کی روَیت کے لئے ایک گواہ کی گواہی جائز ہے ۔ حدیث 1923–1924 باب: اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”حتّیٰ کہ صبح کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے “ سے اللہ تعالیٰ کی مراد رات کے بعد دن کی سفیدی کا ظاہر ہونا ہے ۔ حدیث 1925–1926 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر دو قسم کی ہے ۔ اور دوسری فجر کے طلوع ہونے سے روزے دار کے لئے کھانا پینا اور جماع کرنا حرام ہو جاتا ہے پہلی فجر سے نہیں ہوتا اور یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فرامین کی وضاحت کی ذمہ داری اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی ہے حدیث 1927–1927 باب: مذکورہ بالا فجر کی صفت یہ ہے کہ وہ چوڑائی میں ظاہر ہوتی ہے لمبائی میں نہیں حدیث 1928–1929 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ دوسری فجر جو ہم نے ذکر کی ہے وہ چوڑائی میں پھیلنے والی سفیدی ہے اور اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے - بشر طیکہ روایت صحیح ہو- کیونکہ میں عبداللہ بن نعمان کے بارے میں جرح وتعدیل نہیں جانتا- اور ملازم بن عمرو کے سوا اُن سے روایت کرنے والا کوئی شاگرد بھی مجھے معلوم نہیں ہے - حدیث 1930–1930 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ فجر سے پہلے کی اذان روزے دار کو اس کے کھانے ، پینے اور جماع کرنے سے نہیں روکتی ۔ عوام کے خیال کے بر خلاف جو اسے روکنے والی خیال کرتے ہیں ۔ حدیث 1931–1931 باب: سیدنا بلال اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کے درمیان وقفے کا بیان حدیث 1932–1932 باب: طلوع فجر سے پہلے فرضی روزے کا پختہ عزم اور نیت کرنا واجب ہے اس سلسلے میں عام الفاظ کا بیان جن کی مراد خاص ہے حدیث 1933–1933 باب: ہر روزے کے لئے نیت اس دن کے طلوع فجر سے پہلے پہلے کرنا واجب ہے ۔ اُن لوگوں کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ پورے مہینے کے لئے ایک ہی وقت میں ایک ہی بار نیت کرلینا جائز ہے حدیث 1934–1934 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : ” جس نے رات کے وقت روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے ۔ “ سے آپ کی مراد فرضی روزہ ہے نفلی روزہ مراد نہیں ۔ حدیث 1935–1935 باب: سحری کھانے کا حُکم مستحب اور راہنمائی کے لئے ہے کیونکہ سحری کھانا بابرکت ہے ۔ یہ حُکم فرض و واجب نہیں کہ سحری نہ کھانے والا گناہ گار شمار ہو حدیث 1936–1937 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سحری پر صبح کے کھانے کا لفظ غداء بھی بول دیا جاتا ہے حدیث 1938–1938 باب: سحری کھانے سے روزہ رکھنے میں مدد لینے کے حُکم کا بیان بشرطیکہ زمعہ بن صالح کی روایت سے دلیل لینا درست ہو کیونکہ ان کے بُرے حافظے کی وجہ سے میرا دل غیر مطمئن ہے حدیث 1939–1939 باب: دن کے روزے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق کرنے کے لئے سحری کھانا مستحب ہے اور اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا بیان کیونکہ وہ سحری نہیں کھاتے حدیث 1940–1940 باب: سحری کھانے میں تاخیر کرنے کا بیان حدیث 1941–1942 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯