کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے روزہ داروں کی دعا روزہ افطار کرنے تک قبول کرنے کا بیان ۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے
حدیث نمبر: 1901
ثنا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلائِيُّ ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ : الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَإِمَامٌ عَدْلٌ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَوَاتِ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " . أَبُو مُجَاهِدٍ هُوَ هَذَا اسْمُهُ سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، وَأَبُو مُدِلَّةَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ هَذَا أَحَدُ عُبَّادِ الدُّنْيَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین افراد کی دعا رد نہیں کی جاتی ۔ روزے دار کی دعا حتّیٰ کہ وہ روزہ افطار کرلے اور عدل وانصاف کرنے والے امام و بادشاہ کی دعا اور مظلوم شخص کی دعا ـ اللہ تعالیٰ اُس کی دعا کو بادلوں کے اوپر اُٹھا لیتا ہے اور اُس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ـ پھر رب عزوجل فرماتا ہے کہ ” مجھے میری عزت کی قسم ، میں تیری مدد کروں گا اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہی کروں ۔ “ ابومجاہد کا نام سعد طائی ہے اور ابومدلہ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کا آزاد کردہ غلام ہے ۔ اور عمرو بن قیس دنیا کے عبادت گزاروں میں سے ایک ہیں ۔