کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: ماہ رمضان کی پہلی رات اللہ تعالی کے اپنے مومن بندوں پر فضل و کرم اور سخاوت کرتے ہوئے اُن کی بخشش کرنے کے احسان کا ذکر بشرطیکہ حدیث صحیح ہو کیونکہ مجھے ابوربیع کے متعلق جرح و تعدیل کا علم نہیں ہے اور نہ اس کے شاگرد عمرو بن حمزہ القیسی کے بارے میں علم ہے
حدیث نمبر: Q1885
حدیث نمبر: 1885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ إِمَامُ مَسْجِدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسْتَقْبِلُكُمْ وَتَسْتَقْبِلُونَ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَحْيٌ نَزَلَ ؟ قَالَ : " لا " . قَالَ : عَدُوٌّ حَضَرَ ؟ قَالَ : " لا " . قَالَ : فَمَاذَا ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهَا ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَهُزُّ رَأْسَهُ ، وَيَقُولُ : بَخٍ بَخٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلانُ ، ضَاقَ بِهِ صَدْرُكَ ؟ " قَالَ : لا ، وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْكَافِرُونَ ، وَلَيْسَ لِكَافِرٍ مِنْ ذَلِكِ شَيْءٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن ما لک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تمہارے پاس آنے والا ہے اور تم استقبال کرنے والے ہو ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ۔ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا وحی نازل ہونے والی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ اُنہوں نے پوچھا تو کیا کوئی دشمن آگیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ـ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو پھر کیا آنے والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ ، ماہ رمضان کی پہلی رات اس قبلے والے ہر شخص کو معاف فرما دیتا ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف اشارہ کیا تو ایک شخص اپنے سر کو ہلاہلا کر واہ واہ کہنے لگا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے کہا : ” اے فلاں ، کیا اس بات سے تمہارا سینہ تنگ ہوا ہے ۔ ( تمہیں یہ بات پسند نہیں آئی ) ؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں ، لیکن مجھے منافق یاد آگئے ( کہ وہ بھی اہل قبلہ ہونے کی وجہ سے بخش دیئے جائیں گے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک منافقین کافر ہیں اور کافر کو اس مبارک فضیلت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ “