کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز جمعہ کے لئے اقامت کہنے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1837
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ ، إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ , وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ , وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ كَذَلِكَ , فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ , أَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَهَا : الزَّوْرَاءُ , فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ , وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جمعہ کے ) لئے صرف ایک ہی مؤذن تھا ـ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے تو وہ اذان کہتا اور جب آپ منبر سے اُترتے تو وہ اقامت کہتا ۔ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی اسی طرح رہا ۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ زیادہ ہوگئے تو اُنہوں نے بازار میں ایک گھر ( کی چھت ) پر جسے الزوراء کہا جاتا تھا ، تیسری اذان کہنے کا حُکم دیا ۔ لہٰذا جب آپ گھر سے خطبہ کے لئے تشریف لاتے تو وہ مؤذن اذان کہتا اور جب آپ منبر سے اُترتے تو وہ اقامت کہہ دیتا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1837
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔