کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: مساجد میں داخل ہوتے وقت نماز میں سے مساجد کا حق ادا کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1824–1824 باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نفل ادا کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1825–1826 باب: مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت پڑھنے سے پہلے بیٹھنا منع ہے حدیث 1827–1827 باب: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو پھر دو رکعت پڑھنے سے پہلے مسجد سے نکل جائے تو اسے دو رکعات پڑھنے کے لئے مسجد میں واپس جانے کے حُکم کا بیان حدیث 1828–1828 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت نماز پڑھنے کا حُکم استحباب ، ارشاد اور فضیلت کے لئے ہے حدیث 1829–1829 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنے والے شخص پر ان دو رکعات کا اعادہ ضروری نہیں ہے کیونکہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دو رکعات ادا کرنا فضیلت و ثواب کا باعث ہے فرض نہیں ہے ۔ حدیث 1829–1829 باب: مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت نفل ادا کرنے کا بیان اگرچہ اس دوران امام خطبہ جمعہ ہی دے رہا ہو ۔ اس شخص کے قول کے برعکس جو کہتا ہے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو مسجد میں داخل ہونے والے کے لئے یہ نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے حدیث 1830–1831 باب: امام کا خطبے کے دوران مسجد میں داخل ہونے والے سے پوچھنا کہ کیا اس نے دو رکعات ادا کرلی ہیں یا نہیں ؟ اور امام کا اسے دو رکعات پڑھنے کا حُکم دینا اگر اُس نے امام کے سوال کرنے سے پہلے یہ دو رکعات نہ پڑھی ہوں ۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ خطبہ نماز نہیں ہے حدیث 1832–1834 باب: امام خطبہ جمعہ ے دوران مسجد میں داخل ہونے والے کو دو رکعات ادا کرنے کے حُکم دینے کا بیان حدیث 1835–1835 باب: امام کا خطبے کے دوران میں دو رکعت ادا کیے بغیر بیٹھنے والے کو حُکم دینا کہ وہ اُٹھ کر دو رکعت کرے حدیث 1835–1835 باب: نماز جمعہ سے پہلے نمازی بغیر کسی روک اور ممانعت کے جتنی نفل نماز پڑھنا چاہے ، پڑھ سکتا ہے حدیث 1836–1836 باب: نماز جمعہ سے پہلے طویل نفل نماز پڑھنا مستحب ہے حدیث 1836–1836 باب: نماز جمعہ کے لئے اقامت کہنے کے وقت کا بیان حدیث 1837–1837 باب: خطبہ کے بعد اور نماز شروع کرنے سے پہلے امام اور مقتدی دونوں کو گفتگو کرنے کی رخصت ہے حدیث 1838–1838 باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان حدیث 1839–1839 باب: جمعہ کی نماز پہلے وقت میں وقت ادا کرنا مستحب ہے حدیث 1840–1841 باب: شدید گرمی میں نماز جمعہ کو ٹھنڈا کرنے اور جلدی ادا کرنے کا بیان حدیث 1842–1842 باب: نماز جمعہ کی رکعات کی تعداد کا بیان حدیث 1843–1843 باب: نماز جمعہ میں قراءت کا بیان حدیث 1843–1844 باب: نماز جمعہ کی دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون کے علاوہ کوئی اور سورت پڑھنا جائز ہے اگرچہ پہلی رکعت میں سورة الجمعه پڑھی ہو حدیث 1845–1846 باب: نماز جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور سورة الغاشيه کی قراءت کرنا جائز ہے اور قراءت کا یہ اختلاف جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہے حدیث 1847–1847 باب: امام کے ساتھ جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کا بیان حدیث 1848–1851 باب: چالیس سے کم افراد کے ساتھ نماز جعہ کی ادائیگی کے جائز ہونے کی دلیل کا بیان ، ان علماء کے موقف کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ چالیس سے کم افراد کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا جائز نہیں حدیث 1852–1852 باب: جمعہ میں حاضر نہ ہونے پر سختی کا بیان حدیث 1853–1854 باب: کئی جمعہ چھوڑ دینے والوں کے دلوں پر مہر لگنے اور جمعہ سے پیچھے رہنے کی وجہ سے ان کا شمار غافلوں میں ہونے کا بیان حدیث 1855–1855 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ چھوڑنے والے کے لئے جو وعید آئی ہے وہ اس شخص کے لئے جو بغیر کسی شرعی عذر کے جمعہ چھوڑتا ہے حدیث 1856–1857 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ تین جمعہ چھوڑنے کی وجہ سے دل پر مہر اُس وقت لگتی ہے جب کوئی شخص جمعہ کو حقیر اور بے وقعت سمجھتے ہوئے چھوڑتا ہے حدیث 1858–1858 باب: دنیاوی منافع کی خاطر شہروں سے غائب ہونے پر سخت وعید کا بیان ، جبکہ یہ غائب ہونا جمعہ میں حاضری ترک کرنے کا باعث بنتا ہو حدیث 1859–1859 باب: شہروں سے باہر رہنے والے لوگوں کا امام کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہونے کا بیان جبکہ شہروں میں جمعہ ادا کیا جاتا ہو ۔ بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو ۔ کیونکہ عبداللہ بن عمر العمری کے بُرے حافظے کی وجہ سے دل غیر مطمئن ہے حدیث 1860–1860 باب: بغیر شرعی عذر کے جمعہ چھوڑنے پر ایک دینار صدقہ اور اگر دینار موجود نہ ہوتو نصف دینار صدقہ کرنے کا بیان بشرطیکہ حدیث صحیح ہو کیونکہ مجھے قتادہ کا قدامہ بن دبرہ سے سماع معلوم نہیں اور نہ مجھے قدامہ کے بارے میں جرح و تعدیل کا علم ہے حدیث 1861–1861 باب: بارش میں جمعہ سے پیچھے رہ جانے کی رخصت ہے جبکہ بارش موسلادھار اور موٹے قطروں والی ہو حدیث 1862–1862 باب: بارش میں جمعہ سے پیچھے رہنے کی رخصت ہے اگرچہ بارش تکلیف دہ نہ ہو حدیث 1863–1863 باب: امام مؤذن کو جمعہ کی اذان میں یہ الفاظ پکارنے کا حُکم دے کہ نماز گھروں میں ادا کرلو تاکہ سننے والے کو علم ہوجائے کہ بارش کے دوران جمعہ سے پیچھے رہنا جائز اور مباح ہے حدیث 1864–1864 باب: امام کا مؤذن کو « حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ » کو حذف کرکے اس کی جگہ پر ” نماز اپنے گھروں میں ادا کرلو“ کے الفاظ کہنے کا حُکم دینا حدیث 1865–1865 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کے دن ( بارش کی وجہ سے ) نمازگھروں میں ادا کرلو ، کی ندا ء لگانا درست ہے جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبردی ہے کہ یہ کام اُس شخصیت نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر وافضل ہے ۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بشرطیکہ عباد بن منصورنے اسں حدیث کو محفوظ کیا ہو جسے میں ابھی بیان کروں گا ۔ حدیث 1866–1866 باب: نماز جمعہ اور نفل نماز کے درمیان گفتگو کرکے یا مسجد سے نکل کر فاصلہ کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1867–1867 باب: نماز جمعہ اور نفل نماز کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے وہاں سے نکلے بغیر اتنا ہی کافی ہے کہ جس جگہ نماز جمعہ ادا کی تھی وہاں سے آگے بڑھ جائے حدیث 1868–1868 باب: امام کا جمعہ کے بعد اپنے گھر میں نفل نماز پڑھنا مستحب ہے حدیث 1869–1871 باب: امام کے لئے جمعہ کے بعد مسجد سے نکلنے سے پہلے نفل ادا کرنا جائز ہے بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو ۔ کیونکہ مجھے موسیٰ بن حارث کی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سماع کے بارے میں علم نہیں حدیث 1872–1872 باب: ایک مختصر غیر مفصل روایت کے ساتھ مقتدی کو جمعہ کے بعد چار رکعت نفل ادا کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1873–1873 باب: گزشتہ مختصر روایت کی تفصیل بیان کرنے والی روایت کا ذکر اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو چار رکعات نفل ادا کرنے کا حُکم دیا ہے جبکہ وہ جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ جمعہ کے بعد جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی فرض نہیں حدیث 1874–1874 باب: جمعہ سے فارغ ہو کر دوپہر کے کھانے اور آرام کے لئے گھروں کو واپس لوٹنے کا بیان حدیث 1875–1877 باب: نماز جمہ کے بعد زمین میں میں پھیل جانا اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل تلاش کرنا مستحب ہے حدیث 1878–1878 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯