کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: اسں اذان کا بیان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں موجود تھی ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے کہ جب وہ اذان دے دی جائے تو جمعہ کے لئے جلدی کی جائے اور اس وقت کا بیان جب یہ اذان دی جاتی تھی اور اسں شخص کا ذکر جس نے امام کے تشریف لانے سے پہلے پہلی اذان دینی شروع کی تھی حدیث 1773–1774 باب: امام کے تشریف لانے کے بعد اور خطبہ شروع ہونے سے پہلے مقتدی کے خاموش ہونے کی فضیلت کا بیان حدیث 1775–1775 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر بنانے سے پہلے خطبہ کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان حدیث 1776–1776 باب: اس علت کا بیان جس کی وجہ سے تنا رونا شروع ہو گیا تھا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی بناوٹ ، سیڑھیوں کی تعداد اور جب زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا جائے تو کسی کا سہارا لینے بیان حدیث 1777–1777 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے خطبہ دیتے وقت کمان یا لاٹھی کا سہارا لینا مستحب ہے حدیث 1778–1778 باب: اس لکڑی کا بیان جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر بنایا گیا تھا حدیث 1779–1779 باب: جمعہ کے دن امام کا منبر پر تشریف فرما ہوتے وقت لوگوں کو بیٹھنے کا حُکم دینا ، اگر ولید بن مسلم اور ان کے نیچے والے راویوں نے اس سند میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ یاد رکھا ہو کیونکہ ابن جریج کے شاگردوں نے یہ روایت عطاء کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ( سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ ذکر نہیں کیا ) حدیث 1780–1780 باب: جمعہ کے دن خطبوں کی تعداد ، دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان ۔ اس شخص کے قول کے برخلاف جو سنّت نبوی سے جاہل ہے اور سنّت کو بدعت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا بدعت ہے حدیث 1781–1781 باب: خطبہ جمعہ کو مختصر کرنا اور اسے طویل نہ کرنا مستحب ہے حدیث 1782–1784 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کی کیفیت اور آپ کے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے ساتھ خطبہ شروع کرنے کا بیان حدیث 1785–1785 باب: جمعہ کے دن خطبہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بیان حدیث 1786–1787 باب: خطبہ جمعہ میں بارش کی دعا کرنے کی رخصت کا بیان جبکہ لوگ قحط سالی سے دو چار ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بارش نہ عطا کرے تو قحط سالی ، اموال کی ہلاکت اور راستوں کے کٹ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہو حدیث 1788–1788 باب: خطبہ جمعہ میں گھروں اور مکانوں پر بارش رکنے کی دعا کرنے کا بیان جبکہ بارشوں کی کژت سے نقصان اور گھروں کے منہدم ہونے کا خطرہ ہو گیا ہو اللہ تعالیٰ سے بارشوں کو پہاڑوں اور وادیوں میں لے جانے کی دعا کرنا جہاں نقصان کا اندیشہ نہ ہو حدیث 1789–1789 باب: امام کا خطبے کے دوران مسکرانا درست ہے حدیث 1790–1790 باب: خطبہ جمعہ میں بارش کی دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اُٹھانے کی کیفیت کی بیان حدیث 1791–1792 باب: خطبہ جمعہ میں منبر پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے اور بارش کی دعا کے سوا منبر پر دونوں ہاتھ بلند کرنے کی کراہت کا بیان حدیث 1793–1794 باب: خطبہ کے دوران انگشتِ شہادت سے اشارہ کرتے وقت اسے حرکت دینے کا بیان حدیث 1795–1795 باب: خطبہ کے دوران آیت سجدہ تلاوت کرنے پر سجدہ کرنے کے لئے منبر سے اُترنے کا بیان ، اگر یہ حدیث صحیح ہو حدیث 1795–1795 باب: جمعہ کے دن خطبہ کے دوران منبر پر امام سے سوال کیا جائے تو اسے علمی جواب دینے کی رخصت ہے ۔ ان علماء کے موقف کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ خطبہ نماز کی طرح ہے اور اس میں ایسی کلام کرنا جائز نہیں جو کلام نماز میں جائز نہیں حدیث 1796–1796 باب: لوگوں کو جن باتوں کو علم نہ ہو ، امام کو خطبے کے دوران بغیر سوال پوچھے بھی ان باتوں کی تعلیم دینے کی رخصت ہے حدیث 1797–1797 باب: سفر سے واپس آنے والا جب مسجد میں داخل ہو تو امام کے لئے خطبے کے دوران اسے سلام کرنے کی رخصت ہے حدیث 1798–1798 باب: اگر امام جمعہ کے دن کے خطبہ کے دوران فقر و فاقہ اور حاجت مندی دیکھے تو وہ لوگوں کو صدقہ کرنے کا حُکم دے سکتا ہے حدیث 1799–1799 باب: سوال کرنے والے کو تعلیم دینے کے لئے امام کو خطبہ منقطع کرنے کی رخصت ہے حدیث 1800–1800 باب: کسی ضرورت کے پیش آنے پر امام کا خطبہ منقطع کرکے منبر سے نیچے اُترنے کا بیان حدیث 1801–1802 باب: خطبے کے لئے خاموش رہنے اور غور سے سُننے کی فضیلت حدیث 1803–1803 باب: جمعہ کے دن امام کے خطبہ دیتے وقت گفتگو کرنا منع ہے حدیث 1804–1804 باب: جمعہ والے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کو کلام کرکے خاموش کرانا منع ہے حدیث 1805–1805 باب: لوگوں کا کلام کے ذریعے سے خاموش کرانا منع ہے اگرچہ منع کرنے والا امام کا خطبہ نہ سن رہا ہو حدیث 1806–1806 باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو امام کے علاوہ کسی شخص سے علمی سوال پوچھنا منع ہے حدیث 1807–1808 باب: امام کے خطبہ دینے کے دوران گفتگو کرنے سے جمعہ کی فضیلیت ضائع ہونے اور گفتگو کرنے والے کو تسبیح کے ساتھ منع کرنے کا بیان ، اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا ذکر حدیث 1809–1809 باب: میں نے جو مجمل روایت بیان کی ہے اس کی مفسر روایت کا بیان حدیث 1810–1810 باب: جب امام خطبہ دے رہا ہو تو گفتگو کرنے والے کو خاموش کرانے کے لئے اشارے کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 1811–1811 باب: جمعہ والے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے ۔ اور امام دوران خطبہ اس حرکت سے منع کر سکتا ہے حدیث 1811–1811 باب: جمعہ میں لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت اور اس سے اجتناب کرنے کی فضیلت کا بیان حدیث 1812–1812 باب: جمعہ میں حاضر ہونے والوں کے مراتب حدیث 1813–1813 باب: گزشتہ ابواب میں ، میں نے جو مجمل روایات بیان کی ہیں ان کی مفسرروایت کا بیان حدیث 1814–1814 باب: جمعہ کے دن گوٹ مار کر بیٹھنا منع ہے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو حدیث 1815–1815 باب: جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنا منع ہے حدیث 1816–1816 باب: جمہ کے دن جمہ کے لئے آنے سے لیکر نماز سے فارغ ہونے تک جہالت ونادانی والی حرکات ترک کرنے کی فضیلت حدیث 1817–1817 باب: جب امام جعہ والے دن خطبہ دے رہا ہو تو اس وقت کنکریوں سے کھیلنا منع ہے اور اس بات کی اطلاع کا بیان کہ اس وقت کنکریوں سے کھیلنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے حدیث 1818–1818 باب: جمعہ والے دن اونگھنے والے شخص کے لئے اپنی جگہ تبدیل کرنا مستحب ہے ۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اونگھ کا حُکم نیند والا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے وضو واجب ہوتا ہے حدیث 1819–1819 باب: جمعہ والے دن کسی شخص کا اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اُٹھا کر خود وہاں بیٹھنا منع ہے حدیث 1820–1820 باب: اس بات کا بیان کہ اگر کوئی شخص جمعہ والے دن اپنی جگہ سے اُٹھ جائے پھر واپس آجائے جبکہ اس کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص بیٹھ چکا ہوتو وہ شخص بیٹھنے والے کی نسبت اس جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے حدیث 1821–1821 باب: جب جگہ تنگ ہوتو وسعت اور کشادگی پیدا کرنے کا بیان ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرمی ہے « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ » [ سورة المجادلة : 11 ] ” ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کُھل کر بیٹھو تو تم کُھل کر بیٹھا کرو ، اللہ تمہیں کشادگی دیگا ۔ “ حدیث 1822–1822 باب: امام کے خطبہ کے دوران لوگوں کا امام کو چھوڑ کر کھیل تماشے یا تجارت کی طرف دوڑ جانا منع ہے حدیث 1823–1823 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯