کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جمعہ کے دن جمعہ کے لئے جلدی آنے والوں کے نام لکھنے کے لئے مسجد کے ہر دروازے پر مقرر فرشتوں کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: Q1770
حدیث نمبر: 1770
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلاءَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، نا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ , كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا , وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً , فَإِذَا قَعَدَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ " . وَقَالَ بُنْدَارٌ : " فَإِذَا قَعَدَ طُوِيَتِ الصُّحُفُ " . وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ : " قَدَّمَ طَائِرًا " . قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ : " فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو پہلے آنے والوں کے نام بالترتیب لکھتے ہیں ـ تو پہلے آنے والے شخص کا ثواب اس شخص کے ثواب کی طرح ہے ، جو اونٹ قربان کرتا ہے ۔ پھر وہ شخص جو گائے کی قربانی کرتا ہے اور اس کے بعد آنے والا شخص بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد والا پرندے کی قربانی کرنے والے شخص جتنا ثواب پاتا ہے ۔ اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ثواب حاصل کرتا ہے ۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو رجسڑ بند کر دئیے جاتے ہیں ۔ جناب بندار کی روایت میں ہے کہ ” پھر جب ( امام ) بیٹھتا ہے تو رجسڑ بند کردئیے جاتے ہیں ۔ “ اور جناب علی بن حجر کی روایت میں ہے کہ ” اس نے پرندے کی قربانی پیش کی ۔ “ جناب ابن بزیع کی روایت میں ہے کہ ” پھر جب امام تشریف لے آتا ہے تو رجسٹر بند کر دیئے جاتے ہیں ۔ “