کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1733
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ قُبِضَ , وَفِيهِ النَّفْخَةُ , وَفِيهِ الصَّعْقَةُ , فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ , فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " . قَالُوا : وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ ؟ ! فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تمہارے افضل و اعلیٰ دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے ـ اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن فوت کیے گئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن ( لوگوں پر ) بیہوشی طاری ہوگی ۔ تو تم اس دن میں مجھ پر بکثرت درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جا تا ہے ۔ “ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ کا جسم مبارک تو بوسیدہ ہوچکا ہوگا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیائے کرام کے اجسام کھائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1733
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 1734
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ , وَقَالَ : يَعْنُونَ : قَدْ بَلِيتَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب اپنے استاد محمد بن رافع کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مطلب یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک تو مٹی میں فنا ہو چکا ہو گا -
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1734
تخریج حدیث انظر الحديث السابق