کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس علت و سبب کا بیان جس کی وجہ سے میرے خیال کے مطابق جمعے کو جمعہ کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1732
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : وَكَانَ الْقَرْثَعُ مِنْ قُرَّاءِ الأَوَّلِينَ , عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَلْمَانُ , مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " يَا سَلْمَانُ مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " يَا سَلْمَانُ مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " يَا سَلْمَانُ , يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِهِ جُمِعَ أَبُوكَ أَوْ أَبُوكُمْ , أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ , مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرْتُمْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَيَقْعُدَ ، فَيُنْصِتَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ ، إِلا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” اے سلمان ، جمعہ کے دن کی کیا کیفیت و اہمیت ہے ؟ “ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول یہ خوب جانتے ہیں ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” اے سلمان جمعہ کا دن کیا ہے ؟ “ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جاتنے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سلمان ، جمعہ کا دن کیسا ہے ؟ “ میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سلمان ، جمعہ کے دن تمہارے باپ یا تم سب کے باپ ( آدم کی تخلیق ) کو جمع کیا گیا ـ میں تمہیں جمعہ کے دن کی اہمیت و فضیلت بتاتا ہوں ـ جو شخص بھی جمعہ کے دن طہارت و پاکیزگی حاصل کرتا ہے جیسا کہ تمہیں حُکم دیا گیا ہے ، اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کے لئے ( مسجد ) آجاتا ہے ـ پھر بیٹھ کر خاموش ( ہو کر خطبہ سُنتا ) رہتا ہے ـ حتّیٰ کہ اپنی نماز ادا کر لیتا ہے تو یہ عمل پہلے جمعہ تک کے گنا ہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1732
تخریج حدیث اسناده حسن