کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کا کچھ دیربیٹھے رہنا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے واپس چلی جائیں اور امام کا سلام پھیرنے کے بعد دیر تک نہ بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1719
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ يَحْيَى : قَالَ : ثنا ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرْتِنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ لَمْ يَمْكُثْ إِلا يَسِيرًا , حَتَّى يَقُومَ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَنَرَى ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَاكَ لِيَذْهَبَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ . قَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ : لَمْ يَلْبَثْ إِلا يَسِيرًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو آپ تھوڑی سی دیر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہو جاتے ۔ امام زہری کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام اس لئے کرتے تھے تاکہ عورتیں کسی مرد کے نکلنے سے پہلے چلی جائیں ۔ والله اعلم ۔ جناب یحییٰ بن حکیم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت تھوڑی دیر ٹھہرتے تھے ۔