کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سلام پھیرتے ہی اُٹھ جاتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عورتیں نہیں ہوتی تھیں
حدیث نمبر: Q1718
وَاسْتِحْبَابِ ثُبُوتِ الْإِمَامِ جَالِسًا إِذَا كَانَ خَلْفَهُ نِسَاءٌ لِيَرْجِعَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يَلْحَقَهُمُ الرِّجَالُ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام کا اُس وقت بیٹھے رہنا مستحب ہے جب اس کے پیچھے عورتیں ہوں تاکہ وہ مردوں کے ملنے سے پہلے واپس لوٹ جائیں
حدیث نمبر: 1718
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّ " النِّسَاءَ كُنَّ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ , وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ مِنَ الرِّجَالِ , فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ بیان کر تی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جب عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرتیں تو اُٹھ جاتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ نماز ادا کرنے والے مرد بیٹھے رہتے - پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھتے تو مرد بھی اُٹھ جاتے ۔