کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q1715
إِذَا لَمْ يَكُنْ مُقَابِلُهُ مَنْ قَدْ فَاتَهُ بَعْضُ صَلَاةِ الْإِمَامِ فَيَكُونَ مُقَابِلَ الْإِمَامِ إِذَا قَامَ يَقْضِي.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جبکہ اس کے سامنے کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کی کچھ نماز امام کے ساتھ فوت ہوگئی ہو ۔ لہٰذا جب وہ کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمّل کرے گا تو وہ امام کے سامنے ہوگا
حدیث نمبر: 1715
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، پھر جب سلام پھیرا تو ہماری طرف اپنا چہرہ مبارک کر کے متوجہ ہوئے -